رسائی کے لنکس

جب تک برطانوی حکام اسانج کو ملک سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دینے پر تیار نہیں ہوجاتے، ان کے پاس لندن کے ڈاؤن ٹاؤن سے ایئر پورٹ تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔

وکی لیکس کے بانی جیولین اسانج نے حال ہی میں خود کو سویڈن بھیجے جانے سے روکنے کے لیے عدالت سے اپیل مسترد ہونے کے بعد فرار ہوکر لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں جانے کے بعدسیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ جس پر تاحال فیصلہ نہیں ہواہے۔

اسانج نے سیاسی پناہ کے لیے ایکوڈور کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ تجریہ کاروں کے خیال میں اس فیصلے کے پس منظر میں متعدد وجوہات ہیں۔ جن میں سے سے چند ایک یہ ہیں۔

اسانج کے ایکوڈور کے صدر رافیل کوری سے اچھے مراسم ہیں۔

2010ء میں جب وکی لیکس نے پہلی مرتبہ ہاروں کی تعداد میں خفیہ امریکی دستاویزات افشا کی تھیں تو ایکوڈور نے انہیں اپنے ملک میں قیام کی پیش کی تھی۔

ایکوڈور کے صدر کوری نے جمعرات کو نامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر اسانج کو موت کی سزا دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ایکوڈور کے صدر کا اشارہ اسانج کے حامیوں کے ان خدشات کی جانب تھا جن کا کہناہے کہ خفیہ معلومات چرانے سے متعلق امریکہ میں قائم مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔

اگر ایکوڈور اسانج کو سیاسی پناہ دے بھی دے تو بھی وہاں تک پہنچنے کے ان کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔

لندن میں واقع ایکوڈور کے سفارت خانے میں اسانج کا قیام رات اپنے گھر پر گذارنے کی پابندی کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پابندی ان کی ضمانت کی شرائط میں شامل ہے۔ چنانچہ اس خلاف ورزی کے بعد، اب اسانج جیسے ہی ایکواڈور کے سفارت خانے سے باہر نکلیں گے پولیس انہیں حراست میں لے لے گی۔

جب تک برطانوی حکام اسانج کو ملک سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دینے پر تیار نہیں ہوجاتے، ان کے پاس لندن کے ڈاؤن ٹاؤن سے ایئر پورٹ تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG