رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کا منصوبہ

  • روشن مغل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی کشمیر میں بعض قیمتی اور نایاب نسل کی جنگل حیات پائی جاتی ہے جسے معدوم ہونے سے بچانے کے لیے یہاں تین سال کے لیے شکار پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن اب بھی مختلف علاقوں سے غیر قانونی شکار کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے تعاون سے ایک منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مقامی لوگوں کو جنگلی حیات کو محفوظ بنانے سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت ضلع ہٹیاں بالا میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی سے ملحقہ علاقے قاضی ناگ میں نسل کی معدومی کے خطرے سے دوچارمارخور، برفانی ریچھ، مرغ زریں، کستوری ہرن جیسے جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں مقامی آبادی کو ترغیب اور تربیت دی جائے گی۔

حکام کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے باڑ لگائے جانے سے بھی جانوروں کی بقا کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات فرحت میر نے وائس آف امریکہ کو اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "ان علاقوں میں جنگلی حیات معدومی کا شکار ہے تو قاضی ناگ کے مقامی لوگ بہت متحرک ہیں انھوں نے خود ہم سے رابطے بھی کیے تو ہم یہاں سے اپنی آگاہی مہم شروع کر رہے ہیں جسے پھر بھمبر تک لے کر جائیں گے۔"

اس منصوبے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اس پیغام کو زیادہ موثر انداز میں لوگوں تک پہنچا کر جنگلی حیات کے بچاؤ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

پاکستانی کشمیر میں بعض قیمتی اور نایاب نسل کی جنگل حیات پائی جاتی ہے جسے معدوم ہونے سے بچانے کے لیے یہاں تین سال کے لیے شکار پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن اب بھی مختلف علاقوں سے غیر قانونی شکار کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG