رسائی کے لنکس

سردیوں میں پانی کا استعمال زیادہ کرنا چاہیئے، جب کہ چائے اور کافی کا استعمال کم کردینا چاہیئے

معالج بتاتے ہیں کہ گرمیوں کے مقابلے میں، سردیوں میں جِلد سے متعلق مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماہر امراضِ جِلد، ڈاکٹر ندیم الدین صدیقی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ گرمیوں میں پسینے اور اس کی چکنائی کی وجہ سے جلد خشک نہیں ہوتی، جب کہ سردیوں میں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوتا ہے۔

اُن کے بقول، ’یوں، ہوا انسانی جسم کی نمی کو کھینچ لیتی ہے اور لوگوں میں جلد کے خشک ہوجانے اور جلد کے پھٹنے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں، جس کے لیے احتیاط ضروری ہوجاتا ہے، اور اس کا علاج ایک اچھے ’موئسچیرائزر‘ کا استعمال ہے‘۔

ڈاکٹر صدیقی نے کہا ہے کہ جسم کے دوسرے حصوں کی طرح سر کی جلد بھی سردیوں میں خشک ہو جاتی ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ساتھ ہی، جاڑوں میں خشکی کی شکایات عام ہوجاتی ہیں، اور اس مسئلے کے حل کے لئے خشکی ختم کرنے والے اچھے ’اینٹی ڈینڈرف‘ شیمپو کا استعمال کیا جانا چاہیئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کی خشکی کی وجہ ’فنگس‘ بھی ہو سکتا ہے، جس کو دور کرنے کے لئے، ایک اچھے ماہر امراض جلد سے رجوع کرنا چاہیئے۔

ڈاکٹر ندیم الدین صدیقی نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ جلد کے امراض کے لئے دیگر امراض کی طرح ایک ماہر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے، اور جلد کے مسائل کے حل کے لئے گلی محلے اور میڈیا پر سنے سنائے ٹوٹکوں پر عمل سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ سردیوں میں پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہیئے اور چائے اور کافی کا استعمال کم کردینا چاہیئے، کیونکہ اِن چیزوں کا استعمال جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھا دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، متوازن غذا کا استعمال بھی ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق، سردیوں میں جلد کی شکایات میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ سرد موسم میں لوگ نہاتے کم ہیں اور ایک ہی لحاف بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں اور یوں گندگی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں اور ایک سے دوسرے کو لگنے والی خارش جیسی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG