رسائی کے لنکس

افریقہ کے دورے میں وہ اس تشویش پر دھیان مبذول کریں گے کہ براعظم خام مال برآمد کرتا ہے، جب کہ افریقہ بڑی معیشتوں کے حامل ایشیائی ممالک سے تیار شدہ اشیا درآمد کرتا ہے

چین کے صدر ژی جِن پِنگ نے اتوار کے روز سے افریقہ کے دورے کا آغاز کیا, جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسائل اور اشیا کی منڈی کے اعتبار سے یہ براعظم چین کے لیے کتنی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔

تنزانیہ کے دورے میں وہ تجارت اور تعاون سے متعلق ایک درجن سے زائد سمجھوتوں پر دستخط کریں گے۔

دارالسلام سے ایک رپورٹ میں رائٹرز خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ صدر کے طور پر یہ اُن کا پہلا بیرونی ممالک کا دورہ ہے، جس کے دوران وہ تنزانیہ، جنوبی افریقہ اور ریپبلک آف کانگو جائیں گے۔ اِس سے قبل، وہ روس کا دورہ کر چکے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ژی متعدد افریقی ممالک سےمعاشی تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں، جسے متعدد افریقی مغرب کے اثر کو برابر سطح پر رکھنے کا ایک مثبت توڑ تصور کرتے ہیں۔

افریقہ کے دورے میں وہ اس تشویش پر دھیان مبذول کریں گے کہ براعظم خام مال برآمد کرتا ہے، جب کہ افریقہ بڑی معیشتوں کے حامل ایشیائی ممالک سے تیار شدہ اشیا درآمد کرتا ہے۔

جیمز شکوتی نیروبی میں قائم ’انٹر ریجنل اکانامک نیٹ ورک‘ نامی تھینک ٹینک سے منسلک ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ اِس تاثر کو زائل کرنا چاہتے ہیں کہ چین یہاں وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اُن کے بقول، میں سمجھتا ہوں کہ یہی اُن کے دورے کا خاص مقصد ہے۔

تنزانیہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں ایک نئی بندرگاہ اور صنعتی کمپلیکس کی مشترکہ تعمیر، کمیونیکیشن کے زیریں ڈھانچے کے لیے آسان شرائط پر قرض دینے کی پیش کش، اور تنزانیہ کی حکومت کو بغیر سود کے قرضہ دینا شامل ہیں۔ قرضوں کی سطح اور منصوبوں کی مالیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں معلوم نہیں ہوئی۔

پیر کے روز، اپنے خطاب میں چینی صدر افریقہ کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔

بعد ازاں، دنیا کی اُبھرتی ہوئی معیشتوں کے راہنماؤں کے دو روزہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے وہ جنوبی افریقہ جائیں گے، جس اتحاد کو ’بِرکس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اور وہ مشترکہ غیر ملکی سرمائے کے رِزروس اور زیریں ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے سے منصوبے کی توثیق کریں گے۔
XS
SM
MD
LG