رسائی کے لنکس

سندھ اسمبلی میں ’گواہوں کے تحفظ کا بل‘ منظور

  • کراچی

’تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے گواہ عدالتوں میں پیش ہونے سے ڈرتے ہیں، اور عدم ثبوت پر ملزمان آزاد ہو جاتے ہیں۔ اسلئے، گواہوں کے تحفظ کی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے‘، رکن سندھ اسمبلی، سکندر میندھرو

سندھ کی صوبائی اسمبلی میں بدھ کے روز ہونےو الے اجلاس کے دوران ’گواہان کے تحفظ کا بل‘ مجریہ 2013ء اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل صوبائی وزیر، ڈاکٹر سکندر میندھرو نے پیش کیا۔

اسمبلی میں بل پیش کرتے ہوئے، محرک کا کہنا تھا کہ ’تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے گواہ عدالتوں میں پیش ہونے سے ڈرتے ہیں اور عدم ثبوت پر ملزمان آزاد ہو جاتے ہیں۔ اسلئے گواہوں کے تحفظ کی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

بل کے متن کے مطابق، گواہ شناخت ظاہر کئے بغیر سنگین مقدمات میں گواہی دے سکتے ہیں۔ جبکہ، اگر مخالفین کی جانب سے گواہوں کو دھمکیاں موصول ہوں، تو انھیں حفاظتی رہائشگاہ سمیت ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی دیجائیں گی۔ اگر کسی گواہ کو حکومتی سرپرستی و تحفظ کے باوجود قتل کردیا جائے تو صوبائی حکومت کی جانب سے اس گواہ کے اہلخانہ کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

سندھ کی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سندھ اسمبلی نے بھی بل کی حمایت کا اظہار کیا۔

ارکان سندھ اسمبلی نے بل کے متعلق کہا کہ، گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے سے معاشرے میں امن کے قیام اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد ملےگی۔

واضح رہے کہ اکثر اوقات سنگین مقدمات میں گواہوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیجاتی ہیں، جس کے باعث، گواہ کسی قسم کے تحفظ کی عدم دستیابی کے باعث مارے جانے کے ڈر سے مقدمے کی عدالتی کاروائی کے دوران ملزم کیخلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزمان ثبوت اور گواہ نہ ہونےکےباعث بڑے سے بڑے سنگین مقدمات میں عدالت سے باعزت بری ہوجاتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG