رسائی کے لنکس

ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ طویل تھکان کے بعد ملنے والی پرسکون زندگی دراصل ازدواجی زندگی میں جذباتی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی بیویوں کے لیے ایک ایسا سہانا خواب ہوتی ہے جب شریک حیات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع میسر آسکتا ہے۔

دیکھا جائے تو ازدواجی زندگی میں فرصت کے یہ لمحات بہت انتظار کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن کیا یہ طویل انتظار زندگی کے ان یادگار لمحوں کے حسن کو زائل بھی کر دیتا ہے؟

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی آسودہ زندگی کا خواب میاں بیوی کے لیے دراصل ایک مفروضہ سے زیادہ نہیں کیونکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ طویل تھکان کے بعد ملنے والی پرسکون زندگی دراصل ازدواجی زندگی میں جذباتی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر بیویاں اس دور میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

'یونیورسٹی آف باڈو وا' سے منسلک محققین نے کہا ہے کہ مطالعے کی شریک خواتین کی تقریباً نصف تعداد نے شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو شدید دباؤ اور ڈپریشن کا شکار بتایا۔

طب کی دنیا میں عورتوں کی اس کیفیت کو 'ریٹائرڈ ہسبنڈ سنڈروم' (آر ایچ ایس) سے منسوب کیا جاتا ہے جس کی علامات میں سر درد، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور بے خوابی شامل ہیں۔

اطالوی محققین کی رائے میں ریٹائرمنٹ کا ہر سال گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سنڈروم میں شدت آتی جاتی ہے جبکہ اس کیفیت کا تجربہ صرف گھریلو خواتین ہی نہیں کرتیں بلکہ ملازمت پیشہ بیویاں، جن پر پہلے سے ہی کام کا دباؤ ہوتا ہے، خاص طور پر شوہر کی دیکھ بھال کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی فکر میں زیادہ بری طرح ڈپریشن سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

سماجی تعلیم سے کے شعبے سے وابستہ سائنسدان مارکو برٹونی اور ڈاکٹر جورجیو نے اپنے پانچ سالہ مطالعے کے دوران 840 جاپانی خواتین کے انٹرویوز کا جائزہ لیا۔

دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق اگرچہ جاپان میں کی گئی ہے لیکن مطالعے کے نتائج بہت سے ممالک کی خواتین پر لاگو ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سنڈروم کے اثرات ملازمت پیشہ میاں بیوی پر زیادہ ملے ہیں۔

مطالعے میں شریک خواتین کو ان کےجذباتی مسائل کی پیچیدگی کے لحاظ سے اسکور دیا گیا۔ محققین کو معلوم ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر اضافی برس کے ساتھ خواتین کے ذہنی دباؤ میں 6 سے 14 فیصد تک اضافہ ہوا۔

مطالعے میں شریک 47 فیصد خواتین نے جذباتی مسائل میں اضافے کی شکایت کی۔ اسی طرح 41 فیصد خواتین کو ڈپریشن اور بے خوابی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔

محققین نے طبی جریدے 'لیبر جرنل' کے مطالعے میں لکھا ہے کہ عمر کا ایک طویل عرصہ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد برسوں پرانی عادت کو خیرباد کہتے ہوئے انھیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض بیویوں کی ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ گھر میں ایک اضافی فرد کی موجودگی بھی ہوتی ہے تو دوسری جانب مالی مشکلات کا بوجھ اور گھر پر رہنے کی وجہ سے شوہر کی ضروریات اور فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ وقت بے وقت کی تکرار اکثر بیگمات کو جذباتی مسائل کا شکار بنا دیتی ہے۔

'ریٹائرڈ ہسبنڈ سنڈروم' کا مفروضہ پہلی بار امریکی ڈاکٹر چارلس کلفرڈ نے پیش کیا تھا لیکن اس نئی تحقیق میں پہلی بار ان کے اس مفروضے کو ثبوت کے ساتھ سچا ثابت کیا گیا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق اس سنڈروم کے اثرات کو صرف خواتین تک ہی محدود نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے اثرات میاں بیوی دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد شوہر بھی بیوی کی طرح اسی قسم کےجذباتی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG