رسائی کے لنکس

گمنام خاتون کے عطیہ انڈوں کا استعمال کرتے ہوئے دلجندر کور وٹرو فرٹلائزیشن علاج کے لیے تین تجربوں سے گزری ہیں اور دوسالہ تولیدی علاج کے بعد 19 اپریل کوانھوں نے آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا ہے ۔

ایک بھارتی خاتون نے تولیدی علاج کے ذریعے 7o برس کی عمر میں اپنے پہلے بچے کو جنم دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ماں بننے والی دنیا کی عمر رسیدہ ترین خاتون ہیں۔

بھارتی ضلع امرتسر سے تعلق رکھنے والی عمر رسیدہ خاتون دلجندر کور نے ضلع ہریانہ میں بانجھ پن کا علاج کرنے والے ایک ادارے نیشنل فرٹیلیٹی کلینک میں پچھلے ماہ ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔

دلجندر کور کے ڈاکٹر ماہر تولید انوراگ بشنوئی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اگرچہ خاتون کی اصل عمر کے بارے میں کچھ ٹھیک سے نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن اس کی عمر اپنے شوہر سے تقریبا سات برس کم ہے۔ جبکہ دلجندر کور کے شوہر موہندر سنگھ گل کی عمر 79 برس ہے۔

اگر یہ معلومات درست ہیں تو ان کی عمر لگ بھگ72 برس کے قریب ہے اور وہ بچہ پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے عمر رسیدہ خاتون ہیں۔

دنیا کی عمر رسیدہ ترین ماں کا موجودہ تصدیق شدہ ریکارڈ ماریا ڈیل کارمین بوساڈا لارا کے پاس ہے جنھوں نے 2006 میں 66 برس کی عمر میں دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔

دلجندر کور نے کہا ان کے بیٹے کے دنیا میں آنے سے اب ان کی زندگی مکمل ہوگئی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ انھیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا کیونکہ بھارتی معاشرے میں کچھ لوگ بانجھ پن کو خدا کی لعنت سمجھتے ہیں۔

دلجندر کور کے شوہر موہندر سنگھ گل کا کہنا تھا کہ وہ بچے کے مستقبل کےحوالے سے فکر مند نہیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا ہر چیز کا خود ہی نگہبان ہے۔

یہ عمر رسیدہ جوڑا پچھلے 46 سالوں سے شادی کے بندھن میں تھا لیکن اب تک اولاد سے محروم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جب ہم نے ایک اخبار میں ہریانہ کے تولیدی کلینک کے بارے میں پڑھا تو سوچا کہ ہمیں ایک کوشش کر لینی چاہیئے اور ہم نے آئی وی ایف علاج کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

دلجندر کور کے ڈاکٹر انوراگ بشنوئی نے بتایا کہ ابتداء میں ہم نے اس کیس سے بچنے کی کوشش کی کیونکہ وہ جسمانی صحت کے اعتبار سے حاملہ ہونے کے لیے بہت کمزور لگ رہی تھی اور پھر ہم نے کچھ ٹیسٹ کرائے۔ جب تمام ٹیسٹوں کے نتائج ٹھیک آئے تو ہم نے آگے علاج کرنے کا فیصلہ کیا۔

گمنام خاتون کے عطیہ انڈوں کا استعمال کرتے ہوئے دلجندر کور وٹرو فرٹلائزیشن علاج کے لیے تین تجربوں سے گزری ہیں اور دوسالہ تولیدی علاج کے بعد 19 اپریل کو انھوں نے آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا۔

پیدائش کے وقت بچے کا وزن دو کلو گرام تھا۔ بچے کو تندرست بتایا جاتا ہے جبکہ بچے کا نام ارمان سنگھ رکھا گیا ہے۔

دلجندر کور نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ہر کوئی بچہ گود لینے کے لیے کہتا تھا لیکن وہ ایسا نہیں چاہتی تھی اور اب وہ اپنے بچے کی ماں بن گئی ہیں۔

اس نے کہا کہ ہم اپنے بچے کو اچھی نگہداشت اور تعلیم دیں گے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ خدا نے ہماری دعائیں سن لی ہیں۔

روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق جب سے تولیدی علاج میں ترقی ہوئی ہے بھارت میں چالیس برس سے زائد عمر کی خواتین میں تولیدی علاج کے ذریعے بچوں کی پیدائش عام ہوگئی ہے۔

خاص طور پر خواتین پر بچہ پیدا کرنے کے لیے شدید معاشرتی دباؤ ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگ علاج کے ذریعے خود بچہ پیدا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے آئی وی ایف طریقہ علاج سستا ہے۔

انوراگ بشنوئی کی کلینک تمام عمروں کے افراد میں بانجھ پن کے علاج میں کامیابی کےحوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ ان کی ویب سائٹ کے مطابق 2006 میں اس کلینک میں ایک راجو دیوی نامی 70 سالہ خاتون نے تولیدی علاج کے ذریعے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG