رسائی کے لنکس

جنگ زدہ علاقے خواتین مصوروں کی نظر میں


جنگ زدہ علاقے خواتین مصوروں کی نظر میں

جنگ زدہ علاقے خواتین مصوروں کی نظر میں

فنون لطیفہ ہمیشہ سے انسانی جذبوں کے عکاس رہے ہیں۔ آرٹ کے ذریعے انسان اپنے خیالات اور احساسات کو نا صرف دوسروں تک پہنچا سکتا بلکہ اپنے اندر بھی جھانک سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں یہاں واشنگٹن میں پاکستان اور ایران سے تعلق رکھنے والی دو خواتین ٕمصوروں کی پینٹگز کی نمائش کی گئی ۔ ان پینٹگز کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ امن میں شورش زدہ اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ثقافتی تنگ نظری اور ظلم جبر کا مقابلہ کرنے والے لوگوں کے ہمت و حوصلے اور حقوق کو موضوع بنایا گیاتھا۔

ان ویلیڈ کرج کے نام سے ہونے والی اس نمائش کا مقصد مغربی دنیا کو ان لوگوں کے دکھوں اور مسائل کی تصویر دکھانا تھا جو جنگ اور شورش زدہ علاقوں میں خو ف کے سائے میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔آرٹسٹ سعدیہ خٹک کا کہناتھا کہ چہرے بہت کچھ بتاتے ہیں اور وہ انسانوں کا آئینہ ہوتے ہیں۔

جب کہ آرٹسٹ شیلاکا کہنا تھا کہ میرا تعلق نہ تو مشرق سے ہے اور نہ ہی مغرب سے۔ میں ان دونوں کے بیچ کہیں کھڑ ی ہوں۔

نمائش میں ایک پاکستانی نژاد امریکی آرٹسٹ سعدیہ یاسمین اور ایرانی نژاد امریکن شیلا مہوچین کی پینٹگز کی نمائش کی گئی۔

سعدیہ یاسمین کا تعلق ایک پاکستانی پشتون خاندان سے ہے جو کئی سال پہلے افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے کے قریب شورش زدہ علاقے سے نقل مکانکی کرکے امریکہ آباد ہواتھا۔

انہوں نے اپنی پینٹنگز کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے جنگ اور شورش زدہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات اور ان کے حقوق سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

سعدیہ یاسمین نے کہا کہ یہاں مغرب میں ان لوگوں کے حقوق کے بارے میں نہیں سوچا جاتا ،جن سے ان کے گھر چھن گئے ، جن کے پاس تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔

لیکن سعدیہ کے برعکس امریکہ میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی ایرانی نژاد امریکی آرٹسٹ شیلا کا کہنا تھا کہ ان کے آرٹ کا مقصد ان ثقافتی پابندیوں اور بندشوں کو سامنے لانا ہے جن کے باعث مشرق اور مغرب کے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے آرٹ میں ان دو تہذیبوں کا عکس دیکھتی ہوں جن میں میں پلی بڑھی۔ یہ دو بالکل مختلف ثقافتیں ہیں ۔ میں لوگوں کو بتاتی ہوں کہ میں ایرانی ہوں لیکن میں امریکہ میں پیدا ہوئی اس لیے میں امریکی بھی ہوں۔ اور اسی چیز نے مجھے آرٹ کے ذریعے اپنے خیالات ظاہر کرنے پر آمادہ کیا۔

نمائش کے منتظم جان کاکہنا تھا کہ اس طرح کی نمائشیں دیکھنے والوں کو اپنے سے مختلف لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور یہی اس کا مقصد ہے۔

نمائش میں آنے والے مقامی لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ آج کی دنیا میں لوگوں کے درمیان دوری اصل میں تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان دوری ہے۔ اور اگر ہم مختلف تہذیبوں کے درمیان موجود فاصلے پاٹنے میں کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد سکتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG