رسائی کے لنکس

پاکستانی خواتین میں کاروبار کا رحجان


پاکستان اور بھارت کے وزرائے تجارت (فائل فوٹو)

پاکستان اور بھارت کے وزرائے تجارت (فائل فوٹو)

پاکستان کو طویل عرصے سے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے جس سے متوسط طبقے کی معاشی دشواریاں مزید بڑھ گئی ہیں اور ایسے میں ذریعہ معاش کے حصول کے لیے خاندان کے کسی ایک ہی فرد پر انحصار کے رجحان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

شہری علاقوں میں ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے خواتین بھی اب مردوں کا ہاتھ بٹا رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جنہوں میں اپنے خاندان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کاروبار کا آغاز کیا ہے۔

اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے اسلام آباد وویمن چیمبر آف کامرس کی صدر ثمینہ فاضل کا کہنا ہے کہ یہ مثبت سوچ ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ دو سال قبل اُن کا چیمبر رجسٹر ہوا اور اب دو سو سے زائد خواتین اس کی رکن ہیں جو اپنا کاروبار چلا رہی ہیں۔

ثمینہ فاضل نے بتایا کہ خواتین کو اپنا کاروبار بڑھانے اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کروانے کے لیے ان کا چیمبر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ’’ اب دن بدن (کاروبار کرنے والی) خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پاکستان کی کل آبادی کا نصف سے زائد خواتین پر مشتمل ہے اور اگر وہ گھروں میں بیھٹی رہیں گے تو ہم اقتصادی طور پر کیسے آگے بڑھ پائیں گے، ضرورت اس بات کی ہے زیادہ سے زیادہ خواتین آگے آئیں۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے ’یوایس ایڈ‘ اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں پاکستانی خواتین کی کاروباری صلاحتیوں کو اجاگر کرکے اُنھیں تربیت بھی فراہم کی۔

اس تربیت کے مکمل ہونے کے بعد کاروباری خواتین کی مہارت میں اضافہ ہوا ہے حال ہی میں اسلام آباد وویمن چمبر آف کامرس کے ایک وفد نے بھارت کا دورہ کیا۔ ثمینہ فاضل بھی اس دورے میں شامل تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کاروباری خواتین کی مصنوعات کو بھارتی کمپنیوں کے طرف سے نا صرف پذیرائی ملی ہے بلکہ برآمدت کے کئی آرڈرز بھی ملے ہیں۔

’’پاکستانی خواتین اب صرف گارمنٹس کا ہی کاروبار نہیں کر رہیں بلکہ وہ جیولری، فرنیچر، دستکاری اور کپڑوں کی ڈیزائنگ کی صنعت سے بھی وابستہ ہیں۔‘‘

رواں سال کے اوائل سے پاکستان اور بھارت کے مابین جامع امن مذاکرات کی بحالی کے بعد تجارت کے فروغ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان کی کابینہ نے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک ’ایم ایف این‘ کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اسلام آباد وویمن چیمبر آف کامرس بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے اعلان کو خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت آئندہ تین سالوں میں دوطرفہ تجارت کے سالانہ حجم کو موجودہ تقریباً 2.65 ارب ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG