رسائی کے لنکس

کراچی کی اختر کالونی کے کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی پانچ نو زائیدہ بچیوں کی لاشوں کے ملنے کے واقعے کو سن کر دورِ جاہلیت کی وحشتناک داستانیں یادوں میں آ جاتی ہیں

بحیرہ عرب کے ساحل سے جڑا کراچی شہر، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ آبادی کا طوفان اس شہر کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ لوگوں کی زندگی مشینی ہے ۔ لگتا ہے جیسے ہر شخص بھاگ رہا ہے۔ کون کیا کررہا ہے ؟کسی کو کسی کی خبر نہیں۔

....اگر ایسا نہ ہوتا تو 14فروری 2012ء کو اختر کالونی کی کچرا کنڈی سے ملنے والی پانچ نوزائیدہ بچوں کی لاشوں کے بارے میں کم ازکم اہل محلہ کو یہ علم ضرور ہوتاکہ یہ لاشیں کہاں سے آئیں، کس نے انہیں یہاں پھینکا اور کیوں ۔ اگر کچرا چننے والے بچوں نے ان لاشوں کو دیکھ کر شور نہ مچایا ہوتا تو شاید کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوتی کہ اصل ماجرہ کیا ہے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو اپنے قبضے میں لیا ، اسپتال منتقل کیا اور تفتیش شروع کردی۔ چونکہ میڈیا کو بھی اس واقعے کی بھنک پڑ چکی تھی لہذا وہ فولو اپ کے لئے پولیس کی تفتیش اور اس سے برآمد ہونے والے نتائج کے پیچھے لگ گیا۔

دو سے تین دنوں کے دوران پولیس جس نتیجے پر پہنچی وہ انتہائی بھیانک، ہولناک اور لرزہ خیزتھا۔ پولیس کے مطابق کچرا کنڈی سے برآمد ہونے والی تمام لاشیں ایسی بچیوں کی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں محض ”لڑکی“ ہونے کی سزا دی گئی۔ تفتیش کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ قریب ہی کوئی اسپتال ہے جہاں لڑکیوں کی جنس کا الڑاساوٴنڈ کے ذریعے پیدائش سے پہلے ہی تعین کرکےضائع کردیا جاتا ہے۔

یہ واقعہ اکیس ویں صدی کے جدید ترین زمانے میں دور جاہلیت کی یاد تازہ کرانے کے لئے کافی ہے۔ بغور دیکھیں تو ان دونوں ادوار میں کوئی فرق نہیں۔۔۔سوائے اس کے کہ دور جاہلیت میں لوگ لڑکیوں کوپیدائش کے بعد رات کے اندھیرے میں زندہ گاڑ دیا کرتے تھے جبکہ آج پیدائش سے قبل ہی انہیں کچرا کنڈیوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔

ہوا کی بیٹی کے ساتھ یہ ظلم سالوں سے نہیں،عشروں سے جاری ہے۔ اس پر انسانیت شرمندہ ہے، قدرت بھی یقینا افسردہ ہوگی۔ مگر روکنے والا کوئی نہیں! موم کی مریم کل بھی خواہشات کے آگے حقیر تھی اور آج بھی اسے وہ مقام نہیں ملا جس کا وعدہ تو ہر سال ہر ”عالمی یوم خواتین“ پر کیا جاتا ہے مگر محض زبانی جمع خرچ تک ورنہ یوم خواتین سے صرف 22دن پہلے ایسے انسانیت سوز واقعات کبھی رونما نہ ہوتے۔

بیٹے کی خواہش پربیٹیوں کا قتل رکے گا کیسے؟ اس سوال کے جواب میں غیر سرکاری تنظیم ”عورت فاوٴنڈیشن “کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کراچی مہناز رحمن کا کہنا ہے” سب سے پہلے تو بچے کی جنس جاننے کے لئے کئے جانے والے الڑا ساوٴنڈ پر ہی پابندی ہونی چاہئیے۔ اگر پھر بھی کوئی خلاف ورزی کرتا ہوا پکڑا جائے تو اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہئیے ۔ بیٹیوں کو معاشی بوجھ سمجھ کر قتل کرنا ، انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا جانا چاہئیے کیوں کہ اس سے بڑا کوئی جرم ہو ہی نہیں سکتا۔ “

انہوں نے وی او اے سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ہونے والے بچے کی جنس معلوم کرنے پر ہمارے یہاں کوئی پابندی، کوئی قانون نہیں۔ اس لئے مجرموں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کو چاہئیے کہ جلد از جلد قانون سازی کرے، تاکہ ان چاہے بچوں کے بے دریع قتل کو روکا جاسکے‘‘۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی ترنم خان کا بھی یہی کہنا ہے ” پاکستان میں بھی بھارت کی طرزکا قانون بنا کر الٹرا ساوٴنڈ کے ذریعے بچے کی جنس جاننے پر پابند ی لگائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جانی چاہئیے‘‘ ۔

بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں عورتوں کے خلاف ایک دو نہیں درجن بھر سے زائد جرائم پلتے ہیں۔ خواتین کو تیزاب سے جھلسا دینا ، مردوں کے مقابلے میں انہیں نصف اجرت دینا، جائیداد بچانے کے لئے ان کی زندگی بھر شادی نہ کرنا، پسند کی شادی نہ کرنے دینا، معمولی سے معمولی غلطی پر انہیں’ کاری‘ قراد دے کر قتل کردینا، لڑکیوں کو’ونی‘ جیسی جھوٹی اور کھوکھلی رسموں کی بھینٹ چڑھا دینا، خواتین کی خرید و فروخت، اسمگلنگ، جنسی تشدد، وغیرہ۔ یہ سب ایسے جرائم ہیں جوآج ہمارے معاشرے کا مکروہ چہرہ بن گئے ہیں۔

یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے خبررساں ادارے انٹی گریٹیڈ ریجنل انفارمیشن نیٹ ورکس (آئی آر آئی این) کی ایک رپورٹ کے مطابق چندمہینے قبل پنجاب کے ایک گاوٴں میں والدین نے اپنی بچی کوقتل کرنے کے بعد اس کی لاش کھیتوں میں لے جا کر دفن کر دی تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔بچی کی ماں اکثر روتے ہوئے کہتی ہے کہ اسے اب بھی واقعہ سے متعلق ڈاروٴنے خواب آتے ہیں۔

بچی کو جنم دلانے والی داعی ثریا بی بی نے خبر رساں ادارے کو بتایا ”بچی بالکل صحت مند اور خوبصورت تھی لیکن اس کے والدین کے گھر پہلے ہی دو بیٹیاں تھیں اور ان کا کہنا تھاکہ وہ تیسری بیٹی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ بچی کے مزدور باپ کی ماہانہ آمدنی چار ہزار روپے ماہوار ہے اور غربت کی وجہ سے وہ صرف ایک وقت کھانا کھاتے ہیں۔‘

فلاحی تنظیم ایدھی فاوٴنڈیشن کے ترجمان انور کاظمی کے مطابق گلی کوچوں میں بہت سے شیر خوار بچوں کی لاشیں ملتی رہتی ہیں۔‘ وہ ایک اور ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں’پچھلی دہائی کے مقابلے میں شیر خوار بچوں کی لاشیں ملنے میں سو فیصد اضافہ ہو ا ہے۔ ان لاشوں میں دس میں سے نو لاشیں بچیوں کی ہوتی ہیں۔گزشتہ برس ایک ہزار دو سودس نومولود بچوں کی لاشیں ملیں جبکہ دو ہزار نو میں یہ تعداد نوسو نناوے تھی۔‘

پاکستان کے روایتی معاشرے میں لڑکیوں کوبوجھ سمجھا جاتا ہے۔ان کی شادی پر ہونے والے اخراجات کی وجہ سے والدین معاشی دباوٴ کاشکار ہو جاتے ہیں۔خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی گلنار تبسم کہتی ہیں ’لڑکیوں کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لڑکوں کی طرح خاندان کی معاشی خوش حالی کے لئے کام نہیں کر سکتیں۔‘

ایدھی فانڈیشن کے انور کاظمی نے بتایا کہ قتل کی ان وارداتوں کی وجہ غربت کے علاوہ مخصو ص ذہنیت بھی ہے۔ملک بھر میں ایدھی کی جانب سے جھولے رکھنے اور ان بچوں کو جھولوں میں ڈال دینے کی اپیل کے باوجود بہت کم بچے ان جھولوں میں پائے جاتے ہیں۔چار سو جھولوں میں سالانہ دو سو بچے ملتے ہیں۔ان بچوں کو بہتر پرورش اور اچھا ماحول فراہم کر نے کی غرض سے بچہ گود لینے کے خواہش مند افرادکو دے دیا جاتا ہے۔

ایدھی فانڈیشن کے پا س بڑے شہروں کے اعدا د و شمار تو ہیں لیکن قبائلی علاقوں ، سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں ہونے والی قتل کی ان وارداتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ان علاقوں میں غربت کی سطح سب سے زیادہ ہے۔

گورکن محمد توفیق نے بات چیت کرتے ہوئے یہ درد ناک پہلو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان میں نومولود بچیوں کی تدفین میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بعض کی گردن ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے جبکہ کچھ کی کلائی کی رگیں کٹی ہوئی ہوتی ہیں۔

اس بارے میں ایک رفاحی ادارے میں کام کرنے والی گائنا کولوجسٹ فائقہ صدیق کا کہنا ہے کہ ان کہ پاس اکثر خواتین اپنے شوہر اور سسرال والوں کے دباوٴ پر روتی ہوئی آتی ہیں جو ہر قیمت پر ہونے والی بچی کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔یہ خواتین اپنی بچی کو ختم کرانا نہیں چاہتیں لیکن اپنے خاندان کی مالی مشکلات بھی ان کے لئے پریشانی کا باعث ہوتی ہیں، یوں انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG