رسائی کے لنکس

خواتین کی محاذ جنگ پر تعیناتی پر پابندی اٹھانے کا فیصلہ


امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹاکا فیصلہ صدر اوباما کی حلف برداری کی تقریر کے ایجنڈے کےمطابق ہے جسے واشنگٹن کے تجزیہ کار بےحد ’لبرل‘ قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ کے رخصت ہونےو الے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے جمعرات کے دِن امریکی فوج میں شامل خواتین کی جنگی کارروائیوں میں براہ راست تعیناتی پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

دفاعی عہدیداروں کے مطابق، خواتین کی محاذ جنگ کی اہم پوزیشنز پر تعیناتی سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ یہ پابندی 1994ء میں عائد کی گئی تھی جس کے بعد گزشتہ دس سالوں میں دو لاکھ خواتین فوجیوں نے عراق اور افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا، جب 800 خواتین فوجی زخمی اور 130ہلاک ہوئیں ۔ لیکن، امریکی فوج میں آرٹلری، آرمر، انفینٹری اور دیگر جنگجو نوعیت کے رولز میں خواتین کی باقاعدہ تعیناتی پر پابندی تھی۔

امریکی ائیر فورس کی ریٹائرڈ جنرل ولما واٹ کہتی ہیں کہ اس سے خواتین کو ان پوزیشنز کے لئے مقابلہ کرنے کا موقعہ ملے گا جو انہیں نہیں مل رہا تھا۔خواتین فوجیوں پر سے پابندی اٹھانے کا یہ فیصلہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں حصہ لینے والی دو لاکھ سے زائد امریکی خواتین فوجیوں کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔ سابق خواتین فوجیوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کا ایک عرصے سے یہ کہنا تھا کہ امریکی فوج کی اعلی قیادت میں خواتین کی ایسی پوزیشنز پر تعیناتی کے بارے میں تحفظات موجود ہیں جنہیں جسمانی طور پر زیادہ چیلنجنگ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی ائیر فورس کی ریٹائرڈ جنرل ولما واٹ کہتی ہیں کہ اس سے خواتین کو ان پوزیشنز کے لئے مقابلہ کرنے کا موقعہ ملے گا ، جو انہیں نہیں مل رہا تھا.

امریکی ائیر فورس کی ریٹائرڈ جنرل Vilma Vaught نے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 1990-91ء میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جنگ کا محاذ خواتین کے لئے نہیں ہے۔۔ سوچیں ہم اس
امریکی ائیر فورس کی ریٹائرڈ جنرل ولما واٹ کہتی ہیں کہ اس سے خواتین کو ان پوزیشنز کے لئے مقابلہ کرنے کا موقعہ ملے گا ، جو انہیں نہیں مل رہا تھا.

صورتحال میں تھے، جب ہر طرف جنگ ہو رہی تھی۔ خواتین فوجی ہر جگہ موجود تھیں۔ ہمارے یونٹس میں ایسی عورتیں تھیں جن کا دستہ کسی محاذ پر بھیجا جاتا تو خواتین کو اس کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا تھا۔

ولما واٹ کہتی ہیں کہ اس سے خواتین کو ان پوزیشنز کے لئے مقابلہ کرنے کا موقعہ ملے گا جو انہیں نہیں مل رہا تھا۔ کئی خواتین فوجیوں نے اس حق کو لینے کے لئے مقدمے کر رکھے تھے۔ ان کی ترقی رکی ہوئی تھی۔ انہیں اُس کام کا اہل نہیں سمجھا جارہا تھا جس میں کچھ ایسے عہدے بھی شامل تھے جن تک پہنچے بغیر خواتین فوج میں ترقی کی امید نہیں کر سکتیں۔

تجزیہ کار اسے امریکہ کی فوجی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں جس کے بعد، ان کے بقول، امریکی فوج میں باقاعدہ طور پرصنفی برابری قائم ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ صدر اوباما کی حلف برداری تقریر میں پیش کئے گئےاس ایجنڈے کےمطابق بھی ہے، جسے واشنگٹن کے تجزیہ کار بے حد ’لبرل‘ قرار دے رہے ہیں۔

لیون پنیٹا کے اس اعلان کے بعد امریکہ کی زمینی فوج اور میرین کور کی جانب سے خواتین کی محاذ جنگ کی اہم پوزیشنز پر تعیناتی کے لئے نئی آسامیوں کا اعلان 15 مئی تک سامنے آنے کی توقع ہے۔
XS
SM
MD
LG