رسائی کے لنکس

وفاقی محتسب کے دفتر کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں تقریباً ایک ہزار چھ سو خواتین، ایک ہزار پانچ سو نابالغ ملزم اور اپنی قیدی ماؤں کے ساتھ جیلوں میں بند بچوں کی تعداد تقریباً چار سو پچیس ہے۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں مناسب سہولتوں کی مبینہ عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں قید خواتین اور بچوں کو نہایت خراب صورت حال کا سامنا ہے۔

یہ بات ملک کے وفاقی محتسب کے دفتر کی طرف سے جیلوں کی صورت حال میں بہتری لانے کے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس کے دوران بتائی گئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں تین ہزار سے زائد خواتین اور بچے قید ہیں۔

پاکستان کی ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی پاکستان سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی۔

عاصمہ جہانگیر نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے جیلوں کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل ضیا اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ گزشتہ حکومت کے دور میں مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں بند خواتین کی زیادہ تر مقدمات میں ضمانت پر رہائی کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔ تاہم ان کے بقول اس کے باوجود اب بھی جیلوں میں بند خواتین اور بچوں کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔

" (جیلوں کی) خراب صورت حال فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے بھی ہے اور اس معاملے کی طرف توجہ نا دینے کی وجہ سے بھی ہے ۔ جیلوں میں تعینات اہلکار پرانے انداز سے کام کررہے ہیں ۔۔۔ اور اگر نئی پالیسی اورجیل کے نئے قواعد و ضوابط بنتے ہیں تو اس سے صورت حال میں بہتری آئے گی"۔

وفاقی محتسب کے دفتر کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں تقریباً ایک ہزار چھ سو خواتین، ایک ہزار پانچ سو نابالغ ملزم اور اپنی قیدی ماؤں کے ساتھ جیلوں میں بند بچوں کی تعداد تقریباً چار سو پچیس ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 1980 اور 1990 کے دہائی کے مقابلے میں خواتین قیدیوں کو جنسی طور ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب بھی ایسی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں ۔

رواں سال جون میں ایسی ہی شکایت منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر بات ہوئی اور کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ خواتین قیدیوں کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہیں اور اگر یہ کسی طور ممکن نہیں تو کم ازکم ان کے لیے الگ بیرکس بنائی جائیں۔

XS
SM
MD
LG