رسائی کے لنکس

سائنسی شعبوں میں خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے: سروے رپورٹ


سائنسی شعبوں میں خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے: سروے رپورٹ

سائنسی شعبوں میں خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے: سروے رپورٹ

مےجیمی سن نے اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کیمیکل انجنیئر، میڈیکل ڈاکٹر اور کالج کی پروفیسر ہیں۔ انہیں 1992ء میں خلا میں جانے والی پہلی افریقی امریکی خلاباز خاتون کا اعزاز بھی مل چکاہے۔

جیمی سن ان دنوں اپنی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی BioSentient چلارہی ہیں۔ وہ بائرکارپوریشن کے سائنسی فروغ کے ایک پروگرام کی ترجمان بھی ہیں۔

1995ء سے ہر سال یہ کمپنی سائنسی تعلیم میں پیش رفت اور کام کی جگہوں کے مسائل پر سروے کروا رہی ہے۔ اس سال انہوں نے اپنے سروے میں 1200 سے ایسے کیمیکل انجنیئروں اور کیمسٹوں کو شامل کیا جو یاتو خواتین تھیں یاان کا تعلق اقلتیوں سے تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں ملازمتوں کے لیے مخفف ایس ٹی ای ایم استعمال کیا جاتا ہے۔

جیمی سن کہتی ہیں کہ اس سروے سے یہ ظاہرہوا ہے کہ جو خواتین اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایس ٹی ای ایم کے شعبوں میں جانا چاہتے ہیں، انہیں اس سلسلے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معاشرتی حیثیت میں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں ۔

اگرچہ خواتین اوراقلیتیں امریکی کارکنوں کی کل تعداد کا دو تہائی ہیں، مگرسائنسی شعبوں میں ان کی ملازمتوں کاتناسب 25 فی صد سے بھی کم ہے۔ سروے کے مطابق اس کی وجہ کم تر معیارکے سکول، سائنس اور ریاضی کی معیاری تعلیم کا فقدان ، قدامت پسندانہ منفی سوچ کاتسلسل ، سائنسی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات ، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پرتعصب کے برتاؤ کا ہونا ہے۔

جیمی سن کہتی ہیں کہ سروے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بچے اپنے ابتدائی دور میں سائنس میں دلچسپی لیتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ بچے اپنے اردگرد کی چیزوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں لیکن پھران کے راستے میں رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہیں اور وہ ایک ماہر سائنس دان بننے کی راہ سے اتر جاتے ہیں۔

ایس ٹی ای ایم کےاس جائزے میں تقریباً دو تہائی افراد کا کہناتھا کہ ان کی کمپنیوں یا اداروں کی ملازمتوں میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی کم ہے۔ 40 فی صد نے اس رائے کا اظہار کیا کہ اپنی پسند کی ملازمت کے حصول میں ان کی حوصلہ شکنی کی گئی، خاص طورپر کالجوں میں ان کے پروفیسروں کی جانب سے۔

جیمی سن اپنے اس دور کا ذکرکرتے ہوئے، جب وہ کالج کی طالبہ تھیں، کہتی ہیں کہ جب میں کلاس میں اپنے پروفیسر سے کوئی سوال کرتی تھی تو وہ کوئی خاص توجہ نہیں دیتے تھے لیکن جب وہی سوال کوئی دوسرا طالب علم کرتا تھا تووہ اس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ ایک اچھا سوال ہے۔

اگرچہ امریکہ میں سائنسی علوم میں گریجویٹ اور ماسٹرز کی سطح پر خواتین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن سائنسی شعبوں کی ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بدستور نمایاں طورپر کم ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی وومن کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں معاشرتی اور ثقافتی تعصب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شریک مصنف اینڈریس روز کا کہنا ہے کہ مثال کے طورپر ہائی سکول کی سطح پر لڑکیاں ریاضی میں لڑکوں جتنے ہی نمبر حاصل کرتی ہیں لیکن یہ سوچ اب بھی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہیں کہ لڑکیاں ریاضی میں اچھی نہیں ہوتیں۔وہ کہتی ہیں کہ اس منفی سوچ کی وجہ سے لڑکیاں یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ ریاضی میں لڑکے ان کے مقابلے میں بہتر ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں خواتین کی نمایاں کامیابیوں اور سائنس میں ان کی دلچسپی کے بارے میں شعور اور کالجوں کی سطح پر طالبات کی تعداد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔روز کہتی ہیں کہ سائنس کے شعبوں میں خواتین کی مزید شمولیت کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

سابق خلاباز مائے جیمی سن کہتی ہیں کہ سکولوں اور کالجوں میں زیادہ بہتر سائنسی پروگراموں کی مدد سے نہ صرف مزید خواتین اور اقلتیوں سے تعلق رکھنے والے افراد سائنسی شعبوں میں آئیں گے بلکہ یہ پروگرام زیادہ پڑھی لکھی جمہوریت کے فروغ کا باعث بھی بنیں گے۔

XS
SM
MD
LG