رسائی کے لنکس

خواتین کے حقوق: فوزیہ سعیدسے خصوصی بات چیت

  • بہجت جیلانی
  • واشنگٹن

ڈاکٹر فوزیہ سعید پریس کانفرنس میں قانون کی تفصیلات بتا رہی ہیں(فائل)

ڈاکٹر فوزیہ سعید پریس کانفرنس میں قانون کی تفصیلات بتا رہی ہیں(فائل)

’پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ بھی ہے کہ منظور کیے جانے والے قوانین پر عمل درآمد مشکل سےہی ہوتا ہے‘

نامور مصنفہ، تجزیہ کار اور سوشل ایکٹوسٹ ڈاکٹر فوزیہ سعید اِن دِنوں واشنگٹن میں ہیں۔ اُنھیں 2012ء کاOxiday Foundationکا ایوارڈ ایوارڈ ملنے والا ہے، جو بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد اور جمہوریت کے دفاع کے نمایاں کام پر دیا جاتا ہے۔

اُنھیں یہ ایوارڈ جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں دیا جائے گا۔

فاؤنڈیشن کا پہلا ایوارڈ جمہوریت کے لیے نمایاں جدوجہد پر برما کی اپوزیشن لیڈر، آنگ سان سوچی کو دیا گیا تھا۔

’نیشنل انڈوومنٹ فور ڈیموکریسی‘ کی فیلو، ڈاکٹر فوزیہ سعید نے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ پچھلے 12برس سے پاکستان میں خواتین کی بہتری و بہبود سے متعلق قوانین وضع کرنے کے سلسلے میں کافی پیش رفت کی گئی ہے، اور یہ کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے سے متعلق مسودہٴ قانون بہت جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ بھی ہے کہ منظور ہونے والے قوانین پر عمل درآمد مشکل سےہی ہوتا ہے۔

تاہم، اُنھوں نے بتایا کہ گذشتہ دسمبر میں پاکستان کے پارلیمان نے ایک بل منظور کیا جس کی رو سے خواتین کے چہرے پر تیزاب پھینکے جانے اور آگ لگانے کے جرائم کو ’پاکستان پینل کوڈ‘ میں ترمیم کے ذریعے ’قابل تعزیر‘ بنایا گیا ہے۔

اُن کے بقول، ایسے جرائم کو صرف جرم قرار دینے سے بات نہیں بنتی، کیونکہ، ہمارے معاشرے میں مخصوص سماجی رویوں اور نظام کے باعث اِس طرح کے جرائم کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ ’ہمیں ایسا بِل چاہیئے تاکہ ایسی خواتین کے علاج، بحالی اور ایسے واقعات کی تحقیق میں آسانی پیدا ہو‘۔

اس سلسلے میں، ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ کی سربراہی میں ایک ایسا پرائیویٹ مسودہٴ قانون آنے والا ہے جو مربوط نوعیت کا اور مؤثر نتائج کا حامل ہوگا۔

ڈاکٹر فوزیہ سعید نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومین کی رُکن رہ چکی ہیں۔ وہ دو ناولوں کی مصنفہ ہیں، جن میں Tabooاور Working with Sharksشامل ہیں۔

اِس کے علاوہ ، اُن کی دو کتابیں ’ویمن اِن فوک تھیٹر‘ اور ’ویمن اِن بونڈیج‘ شائع ہوئی ہیں۔

اُنہوں نےگریجویشن تک تعلیم پشاور سے حاصل کی اور پھر ڈاکٹریٹ منی سوٹا، امریکہ سے کی۔

تفصیل سننے کے لیے کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG