رسائی کے لنکس

خلائی پرواز کے شعبے میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے اور یہ شعبہ ان خواتین کا منتظر ہے جو اسے ایک چیلنج کے طور پر اپنانا اور آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔

کمر شل اور سائنسی ریسرچ کے لیے استعمال کیے جانے والے خلائی جہاز بنانے والی کمپنی ، ورجن گالکٹک سے تعلق رکھنے والی بیتھ موسیز، جنہوں نے اس سال ایڈلر پلینٹریم کا’ ویمن ان سپیس سائنس ایوارڈ حاصل کیا ہے، کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے خلائی پروازوں کے وسیع تر مواقع دستیاب ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ خلائی پرواز ان جیسی خواتین کے لیے اس شعبے کو کیرئیر کے طور پر اپنانے کے لیے ایک نفع بخش شعبہ ہے۔

شکاگو کی طالبہ میواٹو اکپلوح کے لیے خلائی تحقیق کا ایسا موضوع ع نہیں ہے جو انہیں نصابی کتابوں، یا اپنے اسکول کیکلاس میں ہونے والی کسی بحث میں ملتا ہوں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم فزکس، بیالوجی اور خلائی سائنس پڑھتے ہیں لیکن ہم نے در حقیقت کبھی بھی ان لوگوں کے بارے میں بات نہیں کی جو واقعی یہ کام کرتے ہیں۔

میواٹو اکپلوح کا تعلق ٹوگو سے ہے اور انہوں نے ابھی حال ہی میں ایک ہائی اسکول کی پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق ایک اکیڈمی سے موٹر گاڑیوں کی مشین میں سند حاصل کی ہے۔ فضائی انجنیئر نگ ان کا انتخاب نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ لوگ اس شعبے میں جانا نہیں چاہتے بلکہ أصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔

ایڈلر پلینٹریم کا کہنا ہے کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے امریکہ میں سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئر نگ اور ریاضی یا سسٹمز کے ان شعبوں میں، جن پر فضائی صنعت انحصار کرتی ہے، اعلیٰ ڈگریاں لینے کی خواہش رکھنے والے طالب علموں کی تعداد مزید کمی ہوئی ہے۔

بیتھ موسیزکہتی ہیں کہ انجنیئر نگ کے شعبے میں کمی انسانی بھلائی کے لیے اچھی نہیں ہے۔ انہیں توقع کہ انہیں دیکھ کر دوسری خواتین کو فضائی شعبے میں آنے کی تحریک ملے گی۔

ناسا میں ایک کامیاب کیرئیر کے بعد انٹر نیشنل اسپیس اسٹیشن میں ایک اسمبلی منیجر کے طور مورسیز اب ورجن گالکٹک کمپنی میں خلابازی کی تربیت کے شعبے کی سربراہ ہیں ۔ یہ کمپنی جسےرچرڈ برین سن نے قائم کیا تھا، مسافروں کو کرائے پر خلا میں لے جانے کا مستقل سلسلہ شروع کرنے والی پہلی کمپنی بننے کی کوشش میں ہے۔

مورسیز کہتی ہیں کہ اس بارے میں کوئی لائحہ عمل نہیں ہے، اور اسے انجام دینے کے طریقے کے بارے میں کوئی راہنمائی موجود نہیں ہے۔

اب جب موسیز انسانوں کی کمرشل خلائی پرواز کےلیے ایک قسم کا کتابچہ لکھ رہی ہیں، اس ابھر تی ہوئی صنعت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ان کی کمپنی کو مزید انجنیئر وں کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اسکول اور فضائی انجنیئرنگ کے اپنے پورے وقت میں، ناسا اور یہاں ورجن گیلگٹک دونوں میں، مجھے کبھی کوئی پریشانی یا ایک خاتون ہونے کے ناطے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اور اس شعبے میں ہرعمر ، نسل اور ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والی بہت سی خواتین موجود ہیں۔

یہ تھا وہ پیغام جو موسیز نے ایڈلر پلینٹریم کے خواتین کے بورڈ سے 2017 کاویمن ان سپیس سائنس ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے دیا۔

سن 2006 میں رچرڈ برنسن نے وی او اے کو بتایا تھا کہ ورجن گیلیکٹک جلد ہی خلا میں چکر لگائے گی۔ بیتھ موسیز کہتی ہیں کہ اس وقت ایک ٹسٹ پروگرام پر کام ہو رہا ہے اور جب یہ مکمل ہو جائے گا اور خلائی جہاز محفوظ ہو گا تو ہم رچرڈ اور اس کے خاندان کے ساتھ کمرشل پروازیں شروع کریں گے۔

سات سو سے زیادہ مسافر پہلے ہی خلائی پرواز کے تجربے کے لیے دو لاکھ ڈالر سے زیادہ کی ادائیگی کر چکے ہیں اور جس سے ان طالب علموں کو تقویت مل رہی ہے جو اس شعبے کو ایک پیشے کے طور پر اپنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جو نہ صرف ایک ایسا تجربہ ہے جس کی بہت مانگ ہے بلکہ یہ نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG