رسائی کے لنکس

لفظ کہانی: بشارت

  • عابدہ رپلی

لفظ کہانی: بشارت

لفظ کہانی: بشارت

مقصود جمیل نے محلہ اقبال گنج، گوجرانوالہ سے لکھا ہے کہ آپ کبھی کبھار دوسری زبانوں کی بات بھی کرتی ہیں۔ اسی لئے یہ سوال لے کر حاضر ہوا ہوں۔ قرآنِ پاک میں کئی بار آیا ہے کہ انہیں بدترین (یا دردناک) عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ تو یہ بتائیے کہ اتنی بری خبر کو خوش خبری کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اگر ہم یہ سمجھ لیں کی اللہ تعالٰی طنز کر رہے ہیں، تو کیا یہ ان کی شان کے خلاف نہیں؟

مقصود صاحب، آپ کا خیال بالکل درست ہے کہ طنز کرنا کمزوری کی علامت ہوتی ہے اور یقیناً الوہی شان کے منافی ہے۔

ان آیتوں میں جو لفظ آیا ہے (بشّر)، اس کے بارے میں الجھن اس وقت پیدا ہوتی ہے اگر اس کا صحیح مطلب سمجھ میں نہ آئے۔ تاج العروس، المورد، المحیط اور بہت سے دوسری لغات کے مطالعے سے اس کا مفہوم واضح ہو سکتا ہے۔

ہمارے یہاں بشریٰ، بشیر، بشارت، مبشر جیسے نام عام ہیں اوریہ عربی کے مادے ب ش ر سے ماخوذ ہیں۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس مادے سے مراد خوش خبری ہے۔ یہ بات تو صحیح ہے لیکن اس سے مراد محض اچھی خبر نہیں ہے۔

وہ کیسے؟ وہ یوں کہ ب ش ر مادے کا لفظی مطلب ہے جلد اور وہ بھی جلد کی اوپر کی سطح۔ جلد کے حوالے ہی سے بشر سے مراد انسان بھی قرار پاتی ہے۔ لیکن خبر والا مطلب اس سے یوں نکلتا ہے کہ جس خبر کے سننے سے جلد کا رنگ متغیر ہوجائے، یعنی خوشی سے یا غصے سے لال، خوف سے زرد یا حیرت اور ڈر سے چہرے کا رنگ اڑ جائے تواس کیفیت کو ب ش ر میں سمویا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مصدر ِبشارة سے مراد ایسی خبرجس سے جلد کی رنگت تبدیل ہو جائے۔

البشربھی مصدر ہے اور اس کا تاریخی مطلب تھا کھال کو چھیل دینا۔ بعد میں اس کے معنے انسان کے ہو گئے۔ (بشراورانسان میں فرق یہ ہے کہ بشر سے مراد اس کے طبعی تقاضے ہیں جو تمام انسانوں میں پائے جاتے ہیں جب کہ انسانیت کی خصوصیات مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہیں)۔

انگلش میں اس کا قریب ترین متبادل شاید Surprise ہی ہوگا۔ سرپرائز اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی۔

XS
SM
MD
LG