رسائی کے لنکس

خود کو جاننے کا عمل آسان نہیں، لیکن ورثے اور پسِ منظر سے واقفیت ہوجائے تو پھر آپنے آپ کو جاننے اور اپنی شناخت کا فہم حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے: پروفیسر فیضان حق

بفیلو یونیورسٹی کے تعلیم داں، پروفیسر فیضان الحق کا کہنا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے نمائندے کی حیثیت سےپاکستان علاقے میں ایک ثقافتی پُل کی مانند ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ اِس شناخت کو ہمیں بیرون ملک پاکستانی نژاد نوجوانوں کو انصاف کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے منتقل کرنا چاہیئے، تاکہ اُنھیں صحیح اقدار کی پرکھ ہو اور شناخت کا فہم حاصل ہو۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، اُنھوں نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ جب کہ خود کو جاننے کا عمل آسان نہیں، لیکن ورثے اور پسِ منظر سے واقفیت ہوجائے تو پھر آپنے آپ کو جاننے اور اپنی شناخت کا فہم حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

پروفیسر فیضان اِن دِنوں واشنگٹن میںIndus Valley Culture پرایک ورکشاپ کی قیادت کررہے ہیں جِس کا مقصد پاکستانی نژاد امریکی نوجوان کو اُن کی ثقافتی rootsکے بارے میں ادراک دینا ہے، کہ وہ کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کا کردار کیا ہے، تاکہ یہ نوجوان بیرون ملک اپنا مقام پیدا کر سکیں۔ یہ ورکشاپ ’یو ایس پاک فاؤنڈیشن‘ کے توسط سے منعقد کیا گیا جس میں 100سے زائد نوجوان رجسٹرڈ ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈس ویلی کی ثقافت میں کشمیر، پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان اور سندھ آجاتا ہے، جو علیحدہ علیحدہ ہونے کے باوجود مخصوص خصوصیات کے حامل ہیں۔

پروفیسر فیضان نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ جہاں امریکہ میں ہمارے نوجوان اپنی شناخت جاننے کی جستجو کر رہے ہیں وہاں ہماری عمر رسیدہ نسل شناخت کے بارے میں خود واضح نہیں ، بلکہ confusedہے۔

اُن کے الفاظ میں، پاکستان، ایشیائی برصغیر، وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک ثقافتی پُل کا کردار ادا کر رہا ہے، جس کی زبانوں میں عربی، فارسی ، وسطی ایشیائی زبانوں کے علاوہ انگریزی، بلوچی، سندھی، پنجابی، کشمیری زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کوئی ایک چیز کسی تہذیب اور ثقافت کی ترجمانی نہیں کرتی۔ اُن کے الفاظ میں: ’در اصل، تہذیب و تمدن ایک طرح کی تحریک ہوتا ہے جو ایک سرے سے چل کر دوسرے سرے تک پہنچتا ہے‘۔

’ہمارے بچوں میں defianceکی ایک واضح خصوصیت موجودہے۔ وہ یہ کہ ہمیں کسی کا دبدبہ یا رعب پسند نہیں، یعنی کوئی کسی کو تنگ نہ کرے۔ لیکن، ہمارے ماں باپ اُن سے ڈیل کرتے ہیں کہ: وہ کرو جو میں تمھیں کہتا ہوں، وہ مت کرو جو میں کر رہا ہوں، یعنی Do what I say, not what I doجو ایک ستم ظریفی ہے’۔

قول و فعل کے تضاد کے بارے میں ایک سوال پر اُنھوں نے ابلاغ کی windows کا ذکر کیااور انسانی اقدار کا حوالہ دیا۔اُنھوں نے کہا کہ،’ اکثر لوگ اپنے آپ کو نہیں جانتے، اُن کے اندر اتنا شور ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو سن نہیں پاتے‘۔

اِس ضمن میں اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کی بات کو کان لگا کر سنا جائے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG