رسائی کے لنکس

اب ایک ایسی دوا بھی تیار کی جا چکی ہے جس سے ایڈز سے متاثرہ شخص کے خون میں اس وائرس کو اس حد تک کم کر دیا جاتا ہے کہ یہ کسی دوسرے شخص میں منتقل ہو کر اسے اس مرض کا شکار نہ کر سکے۔

ایک زمانہ تھا کہ ایڈز کا مرض لاعلاج تھا اور اس سے متاثر ہونے والے شخص کی موت یقینی ہوا کرتی تھی لیکن کئی برسوں کی انتھک تحقیق اور محنت کے بعد اب نہ صرف یہ کہ اس سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ اس کا علاج بھی دریافت کر لیا گیا ہے۔

کسی شخص میں ایچ آئی وی کی موجودگی کے لیے نیویارک میں ایک ایسا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے جس کے لیے خون کا نمونہ دینے کی بھی ضرورت نہیں اور صرف ایک "روئی لگے باریک تنکے" کو کسی بھی شخص کے اس کے مسوڑوں سے مس کرنے کے بعد 20 منٹ میں یہ پتا چلایا جا سکتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی جرثومہ تو نہیں جو ایڈز کا باعث بن سکتا ہو۔

دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد ایڈز وائرس سے متاثرہ ہیں۔ لیکن اب ایک ایسی دوا بھی تیار کی جا چکی ہے جس سے ایڈز سے متاثرہ شخص کے خون میں اس وائرس کو اس حد تک کم کر دیا جاتا ہے کہ یہ کسی دوسرے شخص میں منتقل ہو کر اسے اس مرض کا شکار نہ کر سکے۔

ایک ایسی گولی بھی تیار کی گئی ہے جو کہ لوگوں کو ایچ آئی وی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ امریکہ کے سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشنز کا کہنا ہے کہ یہ گولی تواتر سے کھانے سے ایسے افراد جنہیں ایچ آئی وی لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہو، انھیں اس جرثومے سے 92 فیصد تک تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری کو ایچ آئی وی/ایڈز سے نمٹنے کے لیے ایک طویل اور صبر آزما دور سے گزرنا پڑا۔ امریکہ کے محکمہ صحت سے ایک طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے ڈاکٹر اینتھونی فوسا اس وائرس کے علاج اور بچاؤ سے متعلق تحقیق میں مصروف رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایڈز کے علاج کے لیے "اینٹی ریٹرووائرل" ادویہ نے اس بیماری کی ہیئت تبدیل کردی ہے، یہاں تک کہ سب سہارن افریقہ (براعظم افریقہ کے جنوبی علاقے) میں جہاں ایسے مریضوں کی تعداد 70 فیصد تھی۔

تاہم فوسا نے اب بھی محتاط رہنے کے لیے متنبہ کیا کیونکہ ان کے بقول اس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں اس وقت تقریباً تین کروڑ ستر لاکھ افراد ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثرہ ہیں اور ہر سال بیس لاکھ لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں جب کہ ہر سال دس لاکھ لوگ اس کے باعث موت کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

ایڈز سے بچاؤ کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے "یو این ایڈذ" کے مطابق 2000ء سے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں ماضی کی نسبت 35 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے لیکن ان میں نصف سے بھی کم یعنی 41 فیصد بڑوں اور ایک تہائی متاثرہ بچوں کو اینٹی ریٹرووائرل دی جا رہی ہے۔

ایچ آئی وی پر قابو پانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ اس بارے میں لوگوں کی آگاہی کا فقدان ہے۔ بہت سے لوگوں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور انھیں تشخیص اور علاج کے لیے رجوع کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ایڈز کے 54 فیصد کو ہی یہ معلوم ہے کہ انھیں یہ مرض لاحق ہو چکا ہے جب کہ امریکہ میں یہ شرح 12 فیصد ہے۔

یو این ایڈز نے آئندہ 15 سالوں میں اس وائرس کے مکمل خاتمے کا منصوبہ بنا رکھا ہے لیکن اس کے لیے مزید وسائل، سیاسی عزم، معالجین، سرگرم کارکنوں اور ایڈز کے خلاف کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG