رسائی کے لنکس

پاکستان کی وزارت خزانہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ عالمی بینک سے یہ قرض آئندہ پانچ سالوں میں اقساط کی صورت میں ملے گا۔

پاکستان کی وزارت خزانہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ عالمی بینک نے اُس کے لیے 12 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی ہے جو آئندہ پانچ سالوں میں اقساط کی صورت میں دیے جائیں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایک ارب ڈالر توانائی اور ریونیو اسپورٹ کی مد میں منظور کیے گئے جب کہ 11 ارب ڈالر دیگر منصوبوں کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قرضے کو توانائی کے حصول اور تعلیم کے فروغ سمیت دیگر منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق ورلڈ بینک سے ایک ارب ڈالر آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کو مل جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق آسان شرائط پر ملنے والے قرضے پر سالانہ سود 2 فیصد ہو گا۔

پاکستان کے سابق وزیرخزانہ اور معاشی اُمور کے ماہر سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ رقم انتہائی اہم ہے۔

’’میرے خیا ل میں ورلڈ بینک کے ساتھ جب پاکستان کے تعلقات معمول کے مطابق ہوتے ہیں تو (ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر سالانہ ملتے ہیں)۔ پاکستان کو گزشتہ چند سالوں میں ورلڈ بینک سے فنانسنگ کم ہوئی ہے تو وہ ایک (بیک لاگ) بھی ہے۔۔۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے انتہائی مثبت اثرات ہوں گے۔‘‘

سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف( سے بھی پاکستان کو قرض مل رہا ہے اور اُن کے بقول اگر آئی ایم ایف کی طرف سے کسی ملک کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا جائے تو دیگر مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول میں مشکل نہیں ہوتی۔

’’میرے خیال میں ہمارے پاس آئی ایم ایف کا پروگرام بھی ہے اور ایک اصلاحات کا ایجنڈا بھی ہے اور اگر یہ پیسے ملتے ہیں وہ پاکستان کی معیشت کے لیے (سود مند ہوں گے)۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے اور اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرض کے حصول کے علاوہ اندرون ملک ٹیکس محصولات میں اضافے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG