رسائی کے لنکس

تاہم رپورٹ میں متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات کی شرح میں کمی اب بھی ایک تشویش کی بات ہے۔

عالمی بینک نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 4.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

تاہم رپورٹ میں متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات کی شرح میں کمی اب بھی ایک تشویش کی بات ہے۔

اسلام آباد میں ورلڈ بینک کے دفتر کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان میں ورلڈ بینک کے نمائندے ایلانگو پچامیتھو کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقتصادی استحکام کے حوالے سے اچھی پیش رفت کی ہے، تاہم اس کو مزید بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دور رس اصلاحات کی طرف پیش رفت کی جائے تاکہ ان کے وسیع تر فوائد حاصل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اصلاحات کے ایجنڈے کو عملی شکل دینے کے لیے پاکستان کی معاونت کو تیار ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے طویل المدت اقتصادی شرح نمو کا انحصار افرادی قوت اور دیگر شعبوں میں اصلاحات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عمل درآمد پر ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اقتصادی شرح نمو میں پائیدار اضافے کے لیے مختلف شعبوں میں وسیع اصلاحات از حد ضروری ہیں۔

"ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ پاکستان میں غربت کو دور کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقتصادی ترقی بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ہمیں (مجموعی پیداوار میں) سات سے آٹھ فیصد سالانہ کی شرح نمو چاہیئے ہو گی"۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ملکی معیشت میں نا صرف بہتری آئی ہے بلکہ غیر ملکی زرمبادلے کے ذخائر اور ٹیکس محصولات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

وزیر اعظم نوازشریف کے ترجمان مصدق ملک نے کہا کہ حکومت اقتصادی اور دیگر شعبوں میں وسیع تر اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔

" گزشتہ تین سال کے دوران ٹیکس جمع کرنے کی شرح میں 68 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ سال پہلا سال ہے کہ پاکستان نے ٹیکس کے اہداف پورے کیے ہیں تو ہم نے بہتری تو کی ہے ۔۔۔ ساڑھے تین لاکھ لوگوں کا اضافہ ہوا ہے جو ٹیکس دے رہے ہیں تو اس سے مجموعی ٹیکس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔"

ورلڈ بینک کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کے ایک مصنف محمد وحید کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے غربت کو کم کرنے کے حوالے سے گزشتہ پندرہ سالوں میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔

تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بچوں کی جسمانی نشو نما میں کمی اور اُن کے لیے صحت و تعلیم کی سہولتوں میں متوقع بہتری نہیں آئی ہے۔

مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ناصرف ملک کی غریب آبادی تک صحت کی سہولتوں کو پہنچانے کے لیے ہیلتھ انشورنش کا ایک پروگرام بھی شروع کیا گیا بلکہ ملک میں تعلیم کے شعبوں میں بھی بہتری آ رہی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG