رسائی کے لنکس

مطالعہ سے ظاہر ہوا ہے کہ دنیا کے دولت مند ترین لوگوں کی فہرست میں لگ بھگ دو تہائی ارب پتی بیچلرز کی تعلیمی ڈگری بھی نہیں رکھتے۔

کیا دنیا کے تمام دولت مندوں کو دولت وراثت میں ملتی ہے؟ کیا ارب پتی بننے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے؟ یا پھر دولت محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر بھی کمائی جا سکتی ہے ایسے کئی سوالوں کا جواب آپ کو دنیا کے ارب پتی افراد کی سالانہ مردم شماری کی حالیہ رپورٹ سے مل سکتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ارب پتی کا اسٹیٹس حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی شرط ضروری نہیں۔

مطالعہ سے ظاہر ہوا ہے کہ دنیا کے دولت مند ترین لوگوں کی فہرست میں لگ بھگ دو تہائی ارب پتی بیچلرز کی تعلیمی ڈگری بھی نہیں رکھتے ہیں۔

'ویلتھ ایکس اینڈ یو بی ایس' سینسس رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 20 اعلیٰ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ انڈر گریجوایٹ ڈگری رکھنے والے ارب پتی پیدا ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں امریکہ 16 یونیورسٹیوں کے ساتھ سر فہرست ہے جہاں سے سب سے زیادہ ارب پتیوں نے تعلیم حاصل کی ہے۔

مطالعہ میں دنیا بھر کی ایسی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی گئی ہےجو زیادہ تعداد میں انڈر گریجوایٹ ڈگری رکھنے والے ارب پتی پیدا کرتی ہیں۔

اس فہرست سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کے 25 ارب پتیوں نے امریکی یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے لہذا تجزیہ کاروں نے پنسلوانیا یونیورسٹی کو سب سے زیادہ انڈر گریجوایٹ بلینئرز المنائی رکھنے والی ٹاپ یونیورسٹی قرار دیا ہے جس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی کا نمبر آتا ہے جہاں سے دنیا کے 22 انڈر گریجوایٹ ارب پتی پیدا ہوئے۔

سالانہ ارب پتی مردم شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے 2,325 ارب پتی لوگوں میں سے 35فیصد ارب پتی بیچلر کی تعلیمی ڈگری بھی نہیں رکھتے۔ ایسے ارب پتی طلبہ میں خاص طور پر مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس اور فیس بک کے شریک بانی مارک زیوکربرگ کا نام سرفہرست ہے جنھوں نے انڈرگریجوایٹ تعلیمی کورس کے دوران پڑھائی کا سلسلہ ادھورا چھوڑتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے امریکی یونیورسٹیوں کے بعد سب سے زیادہ انڈر گریجوایٹ ارب پتی تیار کرنے والی یونیورسٹی بھارت کی 'ممبئی یونیورسٹی ہے' جو اس فہرست میں 9 نمبر پر ہے جس کے 12 سابق طلبہ دنیا کے ارب پتی لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ارب پتی افراد کی یونیورسٹیوں کی لیگ ٹیبل پر 'لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس' 10 نمبر پر ہے جس کے 11 سابق انڈر گریجوٹ طلبہ ارب پتیوں میں جگہ بنا چکے ہیں اسی طرح ماسکو اور سوئٹزر لینڈ کی ایک ایک یونیورسٹی نے اس فہرست میں جگہ حاصل کی ہے۔

مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ایسے ارب پتی افراد جنھوں نے یونیورسٹی سطح کی تعلیمی ڈگری حاصل کی ہے ان میں 42 فیصد گریجوایٹ ہیں یعنی ان کے پاس بیچلر کی ڈگری ہے۔ 26 فیصد نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے 21 فیصد نے ایم بی اے مکمل کیا ہے اور 11 فیصد ارب پتیوں نے پی ایچ ڈی کی کلاسوں میں شرکت کی ہے۔

اس فہرست میں ییل یونیورسٹی نمبر 3 اور پرنسٹن یونیورسٹی 4 درجے پر ہے۔

دیگر امریکی یونیورسٹیوں میں کورنیل یونیورسٹی، اسٹین فورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا (بارکلے)، یونیورسٹی آف ٹیکساس، ڈارٹ ماؤتھ کالج ، یونیورسٹی آف مشی گن، نیو یارک یونیورسٹی، ڈیوک یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، براؤن یونیورسٹی اور میسا چوسٹس یونیورسٹی کا نام شامل ہے جن کے سابقہ انڈر گریجوایٹ طلبہ کی بڑی تعداد دنیا کے ارب پتی افراد کی گنتی میں شامل ہے۔

ویلتھ ایکس اینڈ یو بی ایس کی مردم شماری کی رپورٹ سال 2014ء کے مطابق، امریکہ کی سولہ یونیورسٹیوں میں سے انڈر گریجوایٹ ڈگری ارب پتیوں کی ایک چوتھائی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے جبکہ ان میں سے 40 فیصد بلینئرز وہ ہیں جن کے پاس امریکہ کی شہریت نہیں ہے۔

'الٹرا ہائی نیٹ ورتھ' (یو ایچ این ڈبلیو)سوئس بینکنگ گروپ اور سنگاپور کی مالیاتی فرم ہے جس نے دنیا کے انفرادی ارب پتی افراد کی منظم تحقیق کا مجموعہ تیار کیا ہے اس فہرست میں شمولیت کا معیار یہ تھا کہ متعلقہ فرد امریکی کرنسی میں 30 ملین ڈالر سے زائد املاک کا مالک ہو ۔

مطالعے میں دنیا کےارب پتی لوگوں کے پس منظر کا تجزیہ کیا گیا ہے تاہم حاصل ہونے والا نتیجہ کافی حیران کن رہا جس نے امراء کے ظاہری تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے کیونکہ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے اثاثوں اور دولت کے مالک افراد نے یہ دولت اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر حاصل کی تھی جس کے لیے انھوں نے اپنے تجربات سے سیکھا تھا۔

XS
SM
MD
LG