رسائی کے لنکس

آئر لینڈ اور برطانوی اسکولوں میں کتاب کے دن پر اساتذہ بچوں کو ان کی پسندیدہ کتاب کے کردار کا لباس پہننے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں لہذا اس دن کی اہمیت بچوں میں بہت زیادہ ہے۔

برطانیہ اور آئر لینڈ میں مارچ 5کو کتابوں کا دن منایا گیا۔ برطانیہ میں کتاب کے دن کی خصوصی تقریبات منانے کا آغاز 1995میں ہوا۔ اس دن کو منانے کا مقصد بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا، ناشر اور حق اشاعت کو فروغ دینا ہے۔

ویسے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی جانب سے 23اپریل کو کتاب کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔

ورلڈ بک ڈے کے خصوصی دن کے موقع پر برطانیہ بھر کے اسکولوں کو بک پبلشرز، کتب فروش اور نیشنل بک ٹوکن کا تعاون حاصل ہوتا ہے۔ اس دن ملک کے تمام اسکولوں کے بچوں کو کتاب خریدنے کے لیے 1 پونڈ کا ٹوکن دیا جاتا ہے جسے کسی بھی مقامی کتاب فروش کو دے کر عالمی دن کی خصوصی کتابوں میں سے ایک کتاب خریدی جاسکتی ہے یا پھر اپنی پسندیدہ کتاب خریدنے کے لیے اس ٹوکن کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آئر لینڈ اور برطانوی اسکولوں میں کتاب کے دن پر اساتذہ بچوں کو ان کی پسندیدہ کتاب کے کردار کا لباس پہننے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں لہذا اس دن کی اہمیت بچوں میں بہت زیادہ ہے۔

اس دن کے حوالے سے بچوں کی فرمائشوں کا سلسلہ ہفتوں پہلے سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور ایسے میں والدین کے لیے بچوں کی پسندیدہ کہانی کے کرداروں کا لباس تلاش کرنا ایک سخت مرحلہ ثابت ہوتا ہے جبکہ اسے اسکول میں کس کی ماں زیادہ اچھی ہے کا سالانہ مقابلہ بھی کہا جاسکتا ہے۔

ورلڈ بک ڈے ایک ایسا موقع ہے جب ملازمت پیشہ ماؤں کو بھی اپنی سلائی کڑھائی کی مہارتوں کو آزمانا پڑتا ہے اور بچوں کی فرمائش کے مطابق لباس تیار کرنے کے لیے گھنٹوں بازاروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اس کے باوجود کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے تیار کردہ لباس سے آپ کی شہزادی یا شہزادہ مطمئین ہوجائے۔

لیکن اسکول سے واپسی پر بچوں کا موڈ خوشگوار ہو چکا ہوتا ہے کیونکہ کلاس کی دوسری بچے بھی کہانی کے کرداروں کے عین مطابق لباس میں نہیں ہوتے اور یہ بات بچوں اور ماؤں دونوں کے لیے اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔

برطانیہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں جمعرات کی صبح اسکولوں کے دروازے پر بچیاں ڈزنی کے کتابوں کی شہزادیوں کے لباس میں اور بچے جادوئی دنیا کی کتاب ہیری پوٹر کے مشہور کردار ہیری پوٹر، ہرماینی رون، ہوگورڈس کے لباس میں نظر آئے۔

لیکن اس سال بچوں کے جو نئے کردار سب سے زیادہ مقبول رہے وہ فلم فروزن کی شہزادیاں اینا اور ایلسا ہیں اگرچہ فروزن کہانی کی کتاب نہیں ہے لیکن بچے بضد تھے کہ فروزن ایک کومک کتاب ہے لہذا نا چاہتے ہوئے بھی بہت سے والدین کو اپنی بچیاں اینا اور ایلسا کے لباس میں اسکول بھیجنی پڑیں۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اس سال بچے کہانی کے کرداروں سے زیادہ فلم کے مقبول ہیرو کے کرداروں آئرن مین، سپر مین، پاور رینجرز اور اسپائڈرمین کے لباس میں ملبوس تھے اور اسکول کا کھیل کا میدان اچھا خاصا فینسی شو پریڈ میں تبدیل ہو چکا تھا۔

شہرت یافتہ فلم اور کتاب ہیری پوٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ نے اسکول کے بچوں کی تصاویر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں نئی نسل کے ہیری پوٹر، ہرماینی، رون اور ہوگورڈس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور یہ سب کتنے پیارے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ورلڈ بک ڈے بچوں کے لباس کے حوالے سے موضوع بحث بنا رہا ہے بہت سے لوگوں نے کتاب کے دن پر والدین کی طرف سے بچیوں کو فروزن کے کرداروں میں اسکول بھیجنے پر سخت تنقید کی ہے۔

تاہم بہت سے لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ فلم فروزن کی مقبولیت کی وجہ سے بچیوں کو مشہور کہانیوں کے کرداروں سینڈریلا، راپنزل، سلیپنگ بیوٹی،جیسمین، دا لٹل مرمیڈ کی ایریل، سنو وائٹ، فروگ اینڈ دا پرنسسز سے زیادہ ڈزنی کی نئی فلم فروزن کی شہزادیوں اینا اور ایلسا سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے لہذا والدین کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔

دریں اثناء بہت سے والدین نے اساتذہ سے استدعا بھی کی ہے کہ وہ اگلی بار کتاب کے دن کو فینسی ڈریس شو میں تبدیل کرنے کے بجائے کتاب کے ساتھ ہی منسوب رکھیں۔

XS
SM
MD
LG