رسائی کے لنکس

ورلڈ کپ فائنل، بھارت اور سری لنکا کی کامیابیوں کا جائزہ


ورلڈ کپ فائنل، بھارت اور سری لنکا کی کامیابیوں کا جائزہ

ورلڈ کپ فائنل، بھارت اور سری لنکا کی کامیابیوں کا جائزہ

کرکٹ کی عالمی جنگ کا آخری معرکہ دو اپریل کو ممبئی کے ونکھڑے اسٹیڈیم میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا ۔ دونوں ٹیمیں اس سے قبل 128 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف اتر چکی ہیں جن میں سے 67 بار بھارت اور 50 بار سری لنکا کو فتح ملی جبکہ گیارہ میچ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوئے ۔

دونوں ٹیموں نے عالمی کپ 2011 میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پوری دنیا کی طاقتوں پر غالب آ کر اب ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے آئیں گی ۔ اس وقت دونوں ٹیموں کی بیٹنگ لائن نے ہی کرکٹ کی حکمرانی کیلئے انہیں نامزد کیاہے ۔ میگا ایونٹ میں چوٹی کے دس بلے بازوں میں سے سات ان دو ٹیموں میں شامل ہیں ۔

سری لنکا بیٹنگ لائن کی بات کریں تو اوپنر دلشان عالمی کپ میں دو سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے ٹاپ پوزیشن پر فائز ہیں ۔ انہوں نے 66 اعشاریہ 71 کی اوسط سے 467 رنز بنا رکھے ہیں ۔ ان کے علاوہ سنگا کارا نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 417 رنز بنا رکھے ہیں اور ان کی پوزیشن چوتھی ہے ۔ اوپل تھرنگا چوٹی کے بلے بازوں میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ انہوں نے دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 393 رنز اپنے نام کر رکھے ہیں ۔ ان کے علاوہ جے وردھنے نے بھی ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کر رکھی ہے ۔

دوسری جانب بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر عالمی کپ میں دوسرے سب سے زیادہ 464رنز بنانے والے بلے باز ہیں اور اس کے لئے انہوں نے دو سنچریوں اور اتنی ہی نصف سنچریوں کا سہارا لیا ۔ سہواگ نے ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 308 رنز بنا رکھے ہیں اور ٹاپ ٹین بلے بازوں میں ان کا نمبر چھٹا ہے ۔ یوراج سنگھ آٹھویں نمبر پر ہیں اور ان کے رنز کی تعداد 341 ہے جس میں ایک مرتبہ سو اور چار مرتبہ پچاس کا ہندسہ انہوں نے عبور کیا ۔ ان کے علاوہ ویراٹ کوہلی بھی ایک سنچری بنا چکے ہیں جبکہ گھمبیر بھی چار نصف سنچریوں کے ساتھ نمایاں ہیں ۔

بالنگ میں دونوں ٹیموں کے دو بالرز ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ۔ سری لنکن اسپنر مرلی دھرن 15 وکٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں ،ان کے علاوہ سری لنکا کے مالنگا 11، دلشان اور اجنتا مینڈس سات ، سات وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں جبکہ بھارتی فاسٹ بالرظہیر خان19 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ ان کے علاوہ یوراج سنگھ11 ، مناف پٹیل نواور ہر بھجن سنگھ6 وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں ۔

اگر45 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے ونکھڑے اسٹیڈیم ممبئی کی بات کی جائے تویہ دونوں ٹیموں کے لئے انتہائی تاریخی مقام رکھتا ہے کیوں کہ 14 جنوری 1987 میں یہاں پہلا مقابلہ ان دونوں ٹیموں کے درمیان ہی ہوا تھا ۔ یہاں دونوں ٹیمیں ماضی دو مرتبہ آمنے سامنے آئیں اور دونوں نے ایک ، ایک فتح حاصل کی ۔پہلے میچ میں بھارت دس رنز سے کامیاب ہو ا جبکہ دوسرے میں سری لنکا نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی ۔ اس کے علاوہ بھارت نے یہاں مجموعی طور پر 14 میچ کھیلے جس میں سے 8 جیتے جبکہ سری لنکن ٹیم نے 4 میں سے دو بار فتح اپنے نام کی ۔

XS
SM
MD
LG