رسائی کے لنکس

بھارت، سری لنکا فائنل، پہلی مرتبہ دونوں ایشیائی ٹیمیں آمنے سامنے


بھارت، سری لنکا فائنل، پہلی مرتبہ دونوں ایشیائی ٹیمیں آمنے سامنے

بھارت، سری لنکا فائنل، پہلی مرتبہ دونوں ایشیائی ٹیمیں آمنے سامنے

دسویں ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل تک جہاں اور بہت سارے نئے ریکارڈ بنے وہیں ایک نیا ریکارڈ یہ بھی ہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھتی ہیں۔رواں عالمی کپ کا فائنل 2 اپریل کوبھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔

سری لنکا نے ایک روز قبل یعنی منگل کو دارالحکومت کولمبو میں نیوزی لینڈ کو ہرایا تھا ۔ یہ پہلا سیمی فائنل تھا جبکہ دوسرے ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے تھے ۔بھارت یہ میچ جیت گیا ۔سری لنکا 1996ء کے عالمی کپ کا چیمپئین رہ چکا ہے جبکہ دوہزار سات میں وہ رنراپ تھا۔

فائنل تک رسائی کرنے والی دوٴوٴوٴونوں ٹیمیں جنوبی ایشیاء سے ہوں، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے ورنہ 1992ء سے لیکر 2007تک جنوبی ایشیاء کی کوئی ایک ٹیم ہی فائنل تک پہنچتی رہی ہے۔

پاکستان 1992ء کے عالمی کپ کا فاتح اور 1999ء کا رنراپ ہے۔ سری لنکا 1996ء میں ورلڈ کپ جیتا تاہم وہ 2007ء کے عالمی کپ کا رنراپ تھا۔ بھارت نے 2003ء کے عالمی کپ میں فائنل تک رسائی حاصل کی ۔

1975ء میں پہلا ورلڈ کپ ہوا جس کا فائنل ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا ۔ 1979ء کے دوسرے ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں ۔ورلڈ کپ83ء میں ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان فائنل ہوا اور 1987ء میں آسٹریلیا اور انگلینڈ فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔

1992ء میں پاکستان اور انگلینڈ، 1996ء میں آسٹریلیااور سری لنکا، 1999ء میں آسٹریلیا اور پاکستان ،2003ء میں آسٹریلیااور بھارت جبکہ 2007ء میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان مقابلہ ہوا۔

اس بار کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا بھارت کے ہاتھوں ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا جبکہ انگلینڈ کو سری لنکا نے باہر کا رستہ دکھایا ۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے ہاتھوں ٹورنامنٹ سے رخصت ہوئی تو جنوبی افریقہ کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہواپڑا۔

اب بارہ سال بعد دو اپریل کو ممبئی کے ونکھڑے اسٹیڈیم میں نیا چیمپئین سامنے آئے گا۔ آسٹریلیا نے 1999ء، 2003ء،اور 2007ء میں فتح اپنے نام کی تھی لیکن رواں مقابلے کے کوارٹر فائنل میں اس کی شکست کے بعد اب ورلڈ کپ کو نیا چیمپئین ملنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔

XS
SM
MD
LG