رسائی کے لنکس

فٹ بال ورلڈ کپ کاپہلا مرحلہ: کہیں خوشی کہیں غم

  • جمیل اختر

جنوبی افریقہ میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کو ہےاور شائقین آئندہ دو ہفتوں کے دوران پہلے مرحلے کی فاتح ٹیموں کی مہارتوں سے لطف اندوز ہونے کی تیاریاں کررہےہیں۔

ان دو ہفتوں کے دوران ہونے والے مقابلوں میں کئی اپ سیٹ ہوئے ہیں اور فٹ بال کی عالمی رینکنگ میں نمایاں پوزیشن رکھنے والی کئی ٹیمیں دوسرے مرحلے سے باہر ہوگئیں، جس سے جہاں جیتنے والی ٹیموں کے حامی خوشی و مسرت کا اظہار کررہے ہیں، وہاں ان ممالک میں افسردگی اور غم کے جذبات پائے جاتے ہیں ، جن کی ٹیمیں اپنے گروپ میں ہار چکی ہیں۔

گھانا کے شائقین کو بدھ کے روز اس وقت بڑی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک سخت مقابلے کے بعد ان کی ٹیم جرمنی سے صفر کے مقابلے میں ایک گول سے ہار گئی تھی۔ لیکن اس کے چند ہی منٹ کے بعد جب یہ خبر آئی کہ گروپ ڈی میں سربیا کے خلاف اپنے میچ میں آسٹریلیا ایک گول سے جیت گیا ہے،تو گھانا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ کیونکہ گروپ میں اپنی پوائنٹ پوزیشن بہتر ہوجانے کی وجہ سے دوسرے راؤنڈ میں جانے کے لیے گھانا کا راستہ ہموار ہوگیاتھا۔

لیکن سلووانیا کو اس سے الٹ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔سلوواکیا فٹ بال ورلڈ کپ میں شامل ہونے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے، جس کی آبادی صرف 20 لاکھ ہے۔

سلووانیا اپنے گروپ سی میں سر فہرست تھا ، لیکن امریکہ کے ہاتھوں الجزائز کی شکست اور ایک سخت مقابلے کے بعد برطانیہ سے سلوانیا کی ہار کے بعد اب وہ اپنے گروپ میں تیسرے نمبر پر جانے سے دوسرے راؤنڈ سے باہر ہوگیا ہے۔

اسی طرح میزبان ملک جنوبی افریقہ کی ٹیم دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام ہوگئی، جس کا جوہانسبرگ کی گلیوں اور شاہراہوں پر وو ووزیلا بجانے والوں کو بڑا دکھ ہے۔

ایک ایسا ہی منظر فرانس میں دیکھنے میں آیا اور اپنے گروپ میں پوزیشن کھونے کے بعد جب ٹیم اپنے وطن واپس پہنچی تو کھلاڑیوں کو بحفاظت اپنے گھروں کو جانے کے لیے پولیس کی مدد حاصل کرنی پڑی۔

2006ء کے ورلڈ کپ چیمپیئن اٹلی کے لیے بھی یہ سال کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا اور یہ ٹیم اپنے گروپ ایف میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکنے کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے۔ اٹلی کے کھلاڑیوں کو بھی وطن واپسی پر فرانسیسی ٹیم جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

دنیا بھر میں فٹ بال سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والا پلاسٹک کا بے سرا باجا ووووزیلا ، میڈیا کے بعد اب طبی ماہرین بھی کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ جوہانسبرگ کے ایک کلینک نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وو وو زیلا بجانے والوں سے دور رہیں کیونکہ اگرباجا بجانے والا کسی انفکشن میں مبتلا ہے ۔ تو و ہ اپنا مرض اپنے آس پاس کے لوگوں کی بھی باآسانی منتقل کرسکتا ہے۔طبی ماہرین نےیہ بھی کہا ہے کہ اس ساز کی اونچی آواز سے کانوں کے اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔تاہم وو وو زیلا کے حامیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے اور یہ باجا جنوبی افریقہ کے 10 اسٹڈیمز کے باہر ایک سے دو ڈالر میں بدستور بڑی تعداد میں فروخت ہورہاہے۔

XS
SM
MD
LG