رسائی کے لنکس

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے آٹھ سے رات ساڑھے نو بجے تک تمام اہم عمارتوں کی غیر ضروری لائٹیں بجھاکر موم بتیاں جلائی گئیں۔

دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہفتے کی شب زمین سے محبت کےاظہار کے لیے 'ارتھ آّور' منایا گیا۔

ارتھ آور منانے کا مقصد زمین کو ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ فراہم کرنا ہے اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے دنیا بھر کی طرح پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ارتھ آور منانے کی غرض سے مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے آٹھ سے رات ساڑھے نو بجے تک تمام اہم عمارتوں کی غیر ضروری لائٹیں بجھاکر موم بتیاں جلائی گئیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی ارتھ آور منانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا تھا۔ 'ارتھ آور' کے موقع پر کراچی میں سندھ اسمبلی کی عمارت سمیت دیگر اہم سرکاری اور نجی عمارتوں کی غیر ضروری لائٹیں بجھائی گئیں۔

پاکستان کے دیگر شہروں اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ اور پشاور میں بھی ارتھ آور منایا گیا۔

پاکستان کے بعض نجی ٹی وی چینلز کے نیوز روم میں بھی ارتھ آور کے دوران لائٹیں بجھادی گئیں اور نیوز کاسٹرز نے موم بتی کی روشنی میں خبریں پڑھیں۔

جبکہ زمین کے نام 60 منٹ کرنے کےبعد تمام لائٹیں دوبارہ روشن کردی گئیں۔

'گلوبل وارمنگ' یعنی زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث زمین کے ماحول کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے پیش نظر 'ارتھ آور' منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پہلی بار سال 2007ء میں آسٹریلیا میں ارتھ آور منانے کا اہتمام ہوا تھا جس کے بعد سے اب یہ سلسلہ دنیا کے تمام ملکوں تک پھیل گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG