رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق حصول تعلیم کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 132 جب کہ خواتین کی صحت سے متعلق درجہ بندی میں اس کا نمبر 119 ہے۔

عالمی اقتصادی فورم نے صنفی مساوات سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ 2014ء کے لیے اس رپورٹ میں جنسی مساوات سے متعلق 142 ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے جن میں سرفہرست آئس لینڈ جب کہ پاکستان کا نمبر 141 واں ہے۔

یہ رپورٹ دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین کو کاروبار، تعلیم، صحت اور سیاسی طور پر با اختیار بنانے سے متعلق میسر مواقع کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے۔

گزشتہ سال جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کا نمبر 135 واں تھا، رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں صنفی مساوات کا فرق تقریباً ساٹھ فیصد ہے۔ یمن صنفی مساوات کے اعتبار سے سب سے نیچے ہے اور اس کا نمبر 142 واں ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے 141ویں نمبر کا مطلب یہ ہے یہاں خواتین کو معیشت میں شمولیت اور مواقع کے امکان کم ملتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حصول تعلیم کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 132 جب کہ خواتین کی صحت سے متعلق درجہ بندی میں اس کا نمبر 119 ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیاست کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 85 واں ہے۔

عالمی اقتصادی رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران خواتین کے لیے ملازمتوں کے حصول تک رسائی اور سیاست میں شمولیت کے حوالے سے صنفی مساوات میں بہتری آئی ہے۔

رپورٹ میں بھارت کا نمبر 114 واں ہے جب کہ گزشتہ سال وہ 101 نمبر پر تھا۔


ورلڈ اکنامک فورم نے جنسی مساوات سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ 2006ء میں شائع کی تھی اور اب یہ اس ادارے کی نویں رپورٹ ہے۔

اس رپورٹ کی مصنفہ سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ صنفی مساوات میں عالمی سطح پر بہتری خواتین کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع ملنا اور اُن کی سیاست میں شمولیت ہے۔

XS
SM
MD
LG