رسائی کے لنکس

مرگی کے مرض کیلئے تعویذ گنڈوں کے بجائے علاج کرائیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں اس مرض کو بیماری نہیں سمجھاجاتا ، اکثر لوگ اسے جنات کا سایہ یا آسیب کہہ کر اس مریض پر تعویذ گنڈے کرانے اور مریض کو نارمل کرنے کیلئے مزارات اور پیری مریدی کا سہارا لیتے ہیں جس سے اس مرض کومزید نقصان پہنچتا ہے، ماہر امراض دماغ

دماغ کے علاج ومعالجے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مرگی کے مریضوں کو مزاروں پر لے جانے اور تعویذ گنڈوں کے بجائے اگر ان کا مکمل اور درست علاج کرایا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالواسع شاکر وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہتے ہیں ” ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 20 لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں جس میں نوجوانوں اور چھوٹے بچوں میں اس بیماری کا تناسب سب سے زیادہ ہے"۔

ڈاکٹر عبدالواسع کا مزید کہنا ہے " پاکستان میں اس مرض کو بیماری نہیں سمجھاجاتا ، اکثر لوگ اسے جنات کا سایہ یا آسیب کہہ کر اس کے مریض پر تعویذ گنڈے کرانے اور مریض کو نارمل کرنے کیلئے مزارات اور پیری مریدی کا سہارا لیتے ہیں جس سے اس مرض کومزید نقصان پہنچتا ہے۔"

ان کا کہنا ہے کہ " مرگی کے دورے مسلسل پڑنے سے دماغ سخت متاثرہوتا ہے جبکہ دیکھاجائے تو مرگی کے ایک دورے سے دماغ کے لاکھوں خلیات مردہ ہوجاتے ہیں۔

اگر کسی مریض کو آدھے گھنٹے تک دورہ پڑتا رہے تو اس کا دماغ 25 فیصد بیکار ہوجاتا ہے جس کے لئے دوروں کو دواوٴں سے روکنے کی ضرورت ہے"

ماہر امراض دماغ کا کہناہے کہ پاکستان میں 70 فیصد مرگی کے مریضوں کو مکمل علاج دستیاب نہیں جبکہ ملک کے اکثر دیہاتوں میں مرگی سے متاثرہ مریضوں کو دوائیں دستیاب نہیں ہوتیں جس وجہ سے اکثر مریض مکمل علاج سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ اگر اس مرض کا مکمل علاج کیاجائے تو لوگ نارمل مریض ایک کامیاب زندگی گزارسکتا ہے۔

پاکستان سوسائٹی اور نیورولوجی سے وابسطہ ماہر امراض دماغ ڈاکٹرمالک کا کہناہے کہ" انسانی دماغ کے نیورون مکمل طور پر فعال نا ہونے سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے جس میں رسولی اور دماغ کے برقی خلل بڑی وجہ بنتے ہیں ،جس کے باعث جسم کو کنٹرول کرنیوالے دماغی خلئے متاثر ہوتے ہیں جس سے مریض پر دورہ پڑتا ہے"۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ "صرف ڈاکٹر اس مرض کے بارے میں آگاہی سے متعلق اہم کرار ادا نہیں کرسکتے بلکہ حکومتی سطح پر ایسی بیماریوں کیلئے آگاہی پروگرام منعقد کروانے اور مرگی جیسی بیماری کیلئے مفت ادویات کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ علاج معالجے کے ذریعے اس بیماری کا خاتمہ ممکن بنایاجاسکے"۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 50 لاکھ افراد مرگی کے مرض کا شکار ہیں۔پاکستان میں مرگی کے مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 27اعشاریہ 5فیصد مریض شہروں جبکہ دیہی علاقوں کے صرف 2 اعشاریہ 9 فیصد لوگ مرگی کے مرض کا باقاعدہ علاج کرواتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں26 مارچ کومرگی کا عالمی دن ”ورلڈ پرپل ڈے “کے طور پرہر سال منایاجاتا ہے ۔اس کا مقصد مرگی کے مرض سے متعلق آگاہی اور شعور اجاگر کرنا ہے۔

دنیا میں پہلا ورلڈ پرپل ڈے 2008 میں کینیڈا میں منایاگیا تھا جسکے بعد مرگی کے عالمی دن کو 'ورلڈ پرپل ڈے' کے نام سے منسوب کرکے اسے عالمی سطح پر منایاجانیلگا۔
XS
SM
MD
LG