رسائی کے لنکس

اگرچہ روبوٹک سرجری عام ہو گئی ہے لیکن اس سے پہلے یہ آنکھ کے اندر کبھی استعمال نہیں کی گئی ہے اور یہ دنیا کا پہلا آنکھ کے اندر کا روبوٹک آپریشن ہے۔

برطانیہ کے سرجنز کی ایک ٹیم نے مریض کی آنکھ کے اندرونی حصے کے آپریشن کے لیے پہلی مرتبہ روبوٹ کا استعمال کیا ہے اور آنکھ کو ازسرنو دیکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔

اس طریقہ کار کو پہلی مرتبہ ایک مریض کی آنکھ کے پردہ بصارت (ریٹنا) کے اوپر سے موٹی جھلی کاٹنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

یہ آپریشن آکسفورڈ کے ریڈ کلف اسپتال میں کیا گیا جہاں سرجنز نے اس طریقہ کار کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے۔

اخبار گارڈین کے مطابق آپریشن مکمل ہونے پر پروفیسر رابرٹ میک لارین نے کہا کہ میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے مستقبل کی آنکھ کی سرجری کا خواب دیکھا ہے۔

اگرچہ روبوٹک سرجری عام ہو گئی ہے لیکن اس سے پہلے آنکھ کے اندر کبھی استعمال نہیں کی گئی ہے اور یہ دنیا کا پہلا اندرونی آنکھ کا روبوٹک آپریشن ہے۔

پر وفیسر میک لارین نے کہا کہ لیزر اسکینر اورخردبین کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی ہمیں مائیکرو اسکوپک سطح پر آنکھ کے پردے کی بیماریوں کی نگرانی کرنے کے قابل بناتی ہے لیکن ہم جو دیکھ پاتے ہیں اس کا علاج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ہاتھوں سے کام کرنے کی جسمانی حد سے باہر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ روبوٹک نظام کے ساتھ ہم آنکھ کے آپریشن کا ایک مکمل نیا باب کھولنے جا رہے ہیں جو فی الحال نہیں کی جا سکتی ہیں۔

70 سالہ مریض باب ولیم بیور کے پردہ بصارت (ریٹنا) کے اوپر ایک ملی میٹر کے سوویں حصہ کے برابر موٹی جھلی تھی جو نظر کو متاثر کر رہی تھی اور یہ جھلی آہستہ آہستہ پردے کے بعض حصوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ رہی تھی اور اسے پردے کو نقصان پہنچائے بغیر کاٹ کر نکالنے کے لیے اس طریقہ کار کا استعمال ضروری تھا۔

آپریشن کے دوران، پروفیسر میک لارین نے مسٹر بیور کی آنکھ کے اندر انجیکشن کی رہنمائی کے لیے جوائے اسٹک اور ٹچ اسکرین کا استعمال کیا جبکہ روبوٹ کی کارکردگی کا جائزہ آپریٹنگ خوردبین کے ذریعے کیا گیا۔

اس طریقہ کار کا طبی ماہرین کو قابل ذکر فائدہ ہوا کیونکہ اسٹک کی تیز حرکت روبوٹ کی چھوٹی حرکتوں کے نتیجے کے طور پر ظاہر ہو رہی تھیں۔

باب ولیم بیور آکسفورڈ میں ایک چرچ کے ایسوسی ایٹ پادری ہیں انھوں نے کہا کہ ان کے آنکھوں کی بینائی اس طریقہ کار کی مدد سے واپس آ رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ روبوٹ انسانی ہاتھوں کی صلاحیتوں سے باہر پیچیدہ آپریشن کرنے میں مدد کر سکے گا جن میں انتہائی باریک بینی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پروفیسر میک لارین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اندھے پن کے علاج میں مدد کرے گا جیسا کہ آنکھ کے اندر اسٹیم سیلز کے پیوند لگانا اور ڈی این میں ردوبدل سے جینیاتی خرابیوں کو درست کرنے کے لیے جس میں انتہائی باریک بینی کی ضرورت ہوتی ہے۔

روبوٹک آنکھ کی سرجری کے ٹرائل میں آنکھوں کی پیچیدہ بیماریوں کے ساتھ 12 مریض شامل ہیں۔

تجربے کے پہلے حصے میں روبوٹ آنکھ کے نازک پردے کو نقصان پہنچائے بغیر اس پر سے جھلی کو کاٹے گا اور اس کامیاب تجربے کے بعد دوسرے مرحلے میں دیکھا جائے گا کہ کس طرح روبوٹ سے آنکھ کے اندر پردے میں سیال انجیکشن لگایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG