رسائی کے لنکس

فسٹیولا بیماری ماں بننے کے مراحل میں زچگی کا دورانیہ طویل ہونے کے باعث ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں تقریباً 20 لاکھ خواتین اس بیماری کا شکار ہیں۔

گزشتہ روز دنیا بھر میں پہلی بار خواتین کی پیچیدہ بیماری ’فسٹیولا‘ سے بچاؤ کا عالمی دن منایا گیا۔

فسٹیولا کا عالمی دن منانے کا مقصد اس بیماری سے آگاہی اور بچاؤ کے طریقوں کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا بھر کی ماؤں کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں تقریباً 20 لاکھ خواتین اس بیماری کا شکار ہیں۔

کراچی میں خواتین کی صحت کے حوالے سے کام کرنے والے نجی ادارے پاکستان فورم آف وومن ہیلتھ کی جانب سے "فسٹیولا کے عالمی دن " کے حوالے سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کے دوران ماہرین کا کہنا تھا کہ فسٹیولا کی بیماری نا صرف ایک قابل علاج مرض ہے بلکہ اس سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔ خواتین کو یہ بیماری ماں بننے کے مراحل میں زچگی کا دورانیہ طویل ہونے کے باعث ہوتی ہے جو خواتین کے جسم میں کئی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔

دنیا بھر میں فسٹیولا کی بیماری میں مبتلا ہو کر ہزاروں خواتین معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہیں اور معاشرہ ان خواتین کو قبول نہیں کرتا۔

نیشنل فورم آف وومن ہیلتھ کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں 13 مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں ایسی خواتین کا علاج مفت کیا جا رہاہے۔ علاج سمیت ایسی خواتین کو سفری اخراجات بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔

سیمینار کے دوران فورم آف وومن ہیلتھ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فسٹیولا سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر مڈوائف کی مکمل ٹریننگ شروع کی جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے ممکن ہوسکے۔
XS
SM
MD
LG