رسائی کے لنکس

ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 20 لاکھ خواتین اس موذی مرض کا شکار ہوکر معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

کراچی: ماہرین صحت کا کہنا ہے پاکستان میں ہر سال 5000 خواتین 'فسٹیولا آبسٹیٹرک'کی پیچیدہ بیماری کا شکار ہوتی ہیں۔

ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ وہ بیماری ہے جسکے باعث خواتین کی عام زندگی سخت متاثر ہوتی ہے، بلکہ اس بیماری میں مبتلا خواتین معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 23 مئی کو 'فسٹیولا' کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی اس بیماری کے بارے میں عام سطح پر آگاہی کو فروغ دےکر خواتین کو اس بیماری کا شکار ہونے سے بچانا ہے۔۔

ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 20 لاکھ خواتین اس موذی مرض کا شکار ہوکر معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

جناح اسپتال کی گائناکولوجسٹ، ڈاکٹر حلیمہ یاسمین کا کہنا ہے کہ ’دوران زچگی بچے کی پیدائش بر وقت نہ ہونے کے باعث یہ بیماری جنم لیتی ہے'۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں، اُنھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں خواتین کی صحت کے اعتبار سے آگہی کی کمی کے باعث، بہت سی خواتین یہ بیماری لگنے سے معاشی بے چارگی کا شکار ہوجاتی ہیں۔

فسٹیولا کی بیماری کا علاج موجود ہے، جس کے کئی مراکز موجود ہیں، جہاں ایسی خواتین کو مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ مگر اسکے باوجود، اہلخانہ کی جانب سے بیماری میں مبتلا خواتین کو ایک کمرے تک محدود کر دیا جاتا ہے'۔

ڈاکٹر صبوحی مہدی نے بتایا کہ ’دوران زچگی، اکثر خواتین کی موت ہوجاتی ہے۔ مگر جب خواتین اس بیماری کا شکار ہوجاتی ہیں وہ عورت فوت نہیں ہوتی، بلکہ زندگی میں ہی مرجاتی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس بیماری میں اکثر کم عمری کی شادیوں کا شکار ہونے والی بچیاں ہوتی ہیں۔ وہ جب ماں بنتی ہیں تو اکثر جسمانی پیچیدگیوں کا شکار ہوتی ہیں‘۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سالانہ اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ سالانہ 6 ہزار خواتین فسٹیولا جیسی اذیت ناک بیماری کا شکار ہو کر نا صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اعتبار سے بھی مرجھا جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، فسٹیولا کی بیماری لگنے سے رفع حاجت پر کنٹرول ختم ہوجاتا ہے، جب کہ بقول اُن کے، اس موذی بیماری کا مؤثر علاج ممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG