رسائی کے لنکس

اشیاء خورونوش کی قیمتیں غذائی قلت کا اہم سبب

  • جم سٹیونسن

اشیاء خورونوش کی قیمتیں غذائی قلت کا اہم سبب

اشیاء خورونوش کی قیمتیں غذائی قلت کا اہم سبب

صرف حالیہ تاریخ میں یہ ممکن ہوا ہے کہ پورے معاشرے مسلسل بھوک اور قحط کے خطرے سے آزاد ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کامیابی کے باوجود، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بہت سے ملک اب بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد ملی ہے لیکن شاید بھوکے لوگوں کا پیٹ بھرنے میں شاید سب سے بڑی رکاوٹ غذائی اشیاء کی قیمت ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پچاس برسوں میں دنیا کی آبادی میں سینتالیس فیصد کا اضافہ ہو گا یعنی2001ء میں کل آبادی چھ اعشاریہ ایک ارب تھی اور2050 ء میں آٹھ اعشاریہ نو ارب ہو جائے گی۔ آبادی میں اس اضافے کے ساتھ غذائی اشیاء کی مانگ اور ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گایونیورسٹی آف بون کےJoachim von Braun کہتے ہیں کہ’’ ایک سال کو چھوڑ کر ہر سال خوراک کی عالمی قیمت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ اس طرح دنیا میں غذائی صورت حال پر دباؤ پڑا ہے۔ ایشیا اور افریقہ میں رہنے والے غریب لوگ خاص طور سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد جنہیں پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہے بہت زیادہ ہے۔ آج خوراک کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ دنیا میں ایک ارب لوگوں کو پوری غذائیت نہِیں ملتی۔ ان میں سے ساٹھ فیصد لوگ ایشیا میں رہتے ہیں اور ا ن میں بیشتر بچے ہیں‘‘۔

حالیہ عالمی اقتصادی انحطاط سے غذائی اشیاء سمیت تقریباً ہرمارکیٹ متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کے بہت سے علاقوں میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے بھوک کے مسائل سے نمٹنا مشکل ہو گیا ہے ۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کےKatsuji Matsunami کہتے ہیں کہ’’ مختصر مدت میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔ اور اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو جائے۔ طویل عرصے میں، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، آبادی بڑھتی رہتی ہے۔ اور لوگوں کے کھانے پینے کے عادتیں، اور غذائی اشیاء کے لیے صارفین کی مانگ بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ زیادہ اناج پیدا کیا جائے ۔ لیکن یہ آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے کی وجہ سے دنیا کو زیادہ غذا، زیادہ چارہ، اور زیادہ ایندھن پیدا کرنا ضروری ہے ۔ لیکن اس کے لیے جو وسائل درکار ہیں، خاص طور سے پانی، وہ محدود ہیں۔ اور زراعت کو جدید بنانے کے لیے جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے، وہ ہماری توقع سے کم ہے‘‘۔

اگرچہ حالیہ عالمی اقتصادی انحطاط کی وجہ سے زراعت میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے لیکن Joachim von Braun کہتے ہیں کہ حال ہی میں کچھ ایسی چیزیں ہوئی ہیں جن سے دنیا میں بھوک کے مسئلے کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔’’ گذشتہ تین برسوں میں کچھ اچھی باتیں ہوئی ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں نے زراعت میں زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور زراعت کو اپنے ایجنڈ ے میں نمایاں مقام دیا ہے۔ مثلاً دو برس قبل بھارت نے چھ ارب ڈالر کی مالیت کا ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ چین نے اس سے کہیں زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کی ہے اور افریقہ کے کم از کم بیس ملکوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ اور ترقیاتی تنظیموں نے جیسے امریکہ نے یو ایس ایڈ کے ذریعے Feed the Future پروگرام میں زراعت میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے اوران کی توجہ چھوٹے کاشتکاروں پر ہے‘‘۔

Katsuji Matsunami کو امید ہے کہ ان پروگراموں کو خاص طور سے ایشیا میں وسعت دی جا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غذائی اشیاء کی کافی مقدار میں فراہمی کے لیے علاقائی طریقہ اختیار کرنا اہم ہے کیوں کہ ایشیا میں شہری علاقے حیران کن رفتار سے پھیل رہے ہیں۔ ’’حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ ان چھوٹے کاشتکاروں کی بہت بڑی تعداد کی گذر اوقات کا سامان ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی آبادیاں بڑھ رہی ہیں اورانکا بڑا حصہ جو غریبوں پر مشتمل ہے، شہروں میں رہتا ہے اور اسے بھی سستا کھانا چاہیئے ۔ تو ایک طرف تو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کاشتکاروں کو مناسب قیمت ملے، اور وہ قیمت اتنی ہو کہ کاشتکار اپنی چاول کی پیداوار پر زندہ رہ سکیں۔ لیکن چاول کو صارفین تک لانے کے لیے، وہ اتنا سستا ضرور ہونا چاہیئے کہ غریب صارفین بھی اسے خرید سکیں‘‘۔

اشیاء خورونوش کی قیمتیں غذائی قلت کا اہم سبب

اشیاء خورونوش کی قیمتیں غذائی قلت کا اہم سبب

غذائی اشیاء کی قلت کا تعلق دوسری ضروریات سے بھی ہے جیسے بہتر بنیادی ڈھانچہ ، پانی اور ٹیکنالوجی۔ ان چیزوں سے پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے کم قیمت پر زیادہ غذا مارکیٹ میں لائی جا سکتی ہے اور کاشتکاروں کی آمدنی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

Joachim von Braun کہتے ہیں کہ ایشیا کے کچھ حصوں میں سرکاری منصوبوں کے اچھے نتائج بر آمد ہوئے ہیں ۔ بھوک اور غذائیت کی کمی کے مسائل کو حل کرنے میں ویتنام خاص طور سے کامیاب رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کے بعد، ویتنام نے بھوک کے خلاف جنگ میں کامیابی کی شاندار مثال قائم کی ہے۔

XS
SM
MD
LG