رسائی کے لنکس

پاکستان میں آبادی کے ایک بڑا حصے کے لیے خوراک کا حصول مشکل: عہدیدار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عالمی ادارہ خوراک ’ڈبلیو ایف پی‘ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی نصف آبادی غذائی قلت کا شکار ہے کیوں کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر درکار خوراک سے کم مقدار میں کھانے کو ملتا ہے۔

عالمی یوم خوراک پر پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں خوراک کی کمی تو نہیں لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے لیے مناسب خوراک کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا بھر کی طرح جمعرات کو پاکستان میں بھی خوراک کا عالمی دن منایا گیا۔ اس سال اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موضوع ’’فیملی فارمنگ، دنیا کو خوراک کی فراہمی اور زمیں کی دیکھ بھال‘‘ تھا۔

اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں بھی مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

عالمی ادارہ خوراک ’ڈبلیو ایف پی‘ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی نصف آبادی غذائی قلت کا شکار ہے کیوں کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر درکار خوراک سے کم مقدار میں کھانے کو ملتا ہے۔

اس بارے میں ڈبلیو ایف پی کے ایک اعلٰیٰ عہدیدار کرشنا پہاڑی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ غذائی قلت کے اثرات سے خاص طور پر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

’’مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کی صورت حال زیادہ اچھی نہیں ہے۔ قومی پیداوار(خوراک) میں اضافہ ہوا اور اس میں کافی ترقی ہوئی ہے لیکن خاندان کی سطح پر خوراک کی کمی کا مسئلہ کافی تشویشناک ہے۔ خاندان کی سطح پر غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔‘‘

پاکستان میں حکام کے مطابق ملک میں حالیہ برسوں میں تواتر سے آنے والے سیلابوں کے باعث متاثر ہونے والے خاندان بھی غذائی قلت کا شکار ہیں۔

رواں سال بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لگ بھگ 20 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔

XS
SM
MD
LG