رسائی کے لنکس

بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ

  • سیلاح ہینیسی

بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ

بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران دنیا میں بھوکے لوگوں کی تعداد میں تقریباً دس لاکھ کی کمی ہوئی ہے لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی کُل تعداد جنہیں پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا اب بھی بانوے کروڑ پچاس لاکھ ہے۔

بھوک کے خلاف جدوجہد میں اب تک کتنی پیش رفت ہوئی ہے اور دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے کیا کچھ کرنا ہوگا۔

بھوک کے خلاف عالمی جنگ میں 2010ء کا سال بہت اہم ہے۔ اس سال خوراک کا پہلا عالمی دن مناتے ہوئے پندرہ برس اور اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کو قائم ہوئے پندرہ برس مکمل ہوگئے۔

Caroline Hurford کا تعلق اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گذشتہ تیس برسوں میں صحیح معنوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2010ء گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق 1990ء سے اب تک دنیا میں بھوکے لوگوں کے تناسب میں ایک چوتھائی کی کمی آئی ہے۔ لیکن Hurford کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں کچھ رکاوٹیں پیش آئَی ہیں۔ ’’

1990ء کی دہائی کے آخری برسوں میں بھوکے لوگوں کی تعداد میں کچھ کمی ہوئی لیکن 2007ء اور2008ء کے مالیاتی بحران کے دوران اس میں پھر اضافہ ہو گیا۔ اور پھرغذائی اشیاء کی بہت اونچی قیمتوں اور اسکے ساتھ ہی ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے ہر چیز درہم برہم ہوگئی۔ ہمیں اب پتہ چل رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد روزافزوں ہے جو غذائی اشیاء خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ پھر آب و ہوا میں تبدیلی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے فصلیں اگانا زیادہ مشکل ہو گیا ہے‘‘۔

دس برس پہلے دنیا کے ملکوں نے جو آٹھ ملینیم ڈیولپمنٹ گولز مقرر کیئے تھے ان میں پہلا نمبر بھوک کے خلاف جنگ کا تھا۔ اب2015ء کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی ہے اور بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ یہ ہدف پورا نہیں ہو سکے گا۔

بعض ملکوں اورعلاقوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ ترقی جنوبی ایشیا میں ہوئی ہے اورزیریں صحارا کے بہت سے افریقی ملک بھی جن میں گھانا، ایتھیوپیا، اور انگولا شامل ہیں کچھ آگے بڑھے ہیں۔

لیکن بہتری کی رفتار سب ملکوں میں یکساں نہیں ہے۔ سب سے زیادہ خراب حالت ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی ہے جہاں جنگ و جدال اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ Hurford کہتی ہیں کہ ماحولیاتی آفات جیسے خشک سالی اور لڑائی جھگڑے، بھوک کے خلاف جنگ میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں ’’جہاں تک فصلیں اگانے کا تعلق ہے، کاشتکاروں کے لیے جنگ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر مسلح باغیوں کے جتھے کاشتکاروں کا مسلسل پیچھا کر رہے ہوں تو وہ کھیتوں میں کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ خوف و دہشت کی وجہ سے وہ گھر پر بھی نہیں ٹھیر سکتے۔ اس طرح ان کے لیے مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔

جن ملکوں میں لڑائی ہوتی رہتی ہے،جیسے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور صومالیہ، وہاں کُل امداد میں امرجینسی کےلیئے دی جانے والی امداد کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ صومالیہ کو جو امداد ملتی ہے اس کا 64 فیصد حصہ امرجینسی میں استعمال ہو جاتا ہے ۔

Edgardo Valenzuela اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائیزیشن سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دنیا میں بھوک کے مسئلے کو کم کرنا ہے تو ایک نیا طریقہ اپنانا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہنگامی ضرورتوں کے لیئے دی جانے والی امداد اہم ہے، لیکن زراعت میں سرمایہ کاری کو سب سے زیادہ ترجیح دینا ضروری ہے۔ ’’مختصر مدت کی یہ امداد کافی نہیں ہے کیوں کہ ان ملکوں میں جو ہمیشہ کسی نہ کسی بحران میں گھرے رہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا سسٹم تیار کیا جائے کہ لوگ فصلیں اگا سکیں اور اپنے لیے غذائی اشیاء خود پیدا کر سکیں، ورنہ یہ ملک کبھی بھی بھوک کو ختم کرنے کا پائیدار طریقہ اختیار نہیں کر سکیں گے‘‘۔

Aileen Kwa ساؤتھ سینٹرمیں تجزیہ کار ہیں جو سوئٹزر لینڈ میں ترقی پذیرملکوں کا تھنک ٹینک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بھوک کے خلاف جنگ کا ہنگامی امداد اور پائیدار ترقی پر مشتمل روایتی طریقہ کافی نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اقتصادی حکمت عملی پر نظر ثانی ضروری ہے۔ بہت سے افریقی ملک پریشانی میں گرفتار ہیں کیوں کہ انھوں نے عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سفارش پر بعض ایسی اقتصادی پالیسیوں پر عمل شروع کر دیا جو سرا سر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ Aileen Kwa کہتی ہیں ’’زرعی اشیاء پرمحصول کم کرنے یا ختم کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان ملکوں میں یورپ اور امریکہ سے زرعی اشیا کا سیلاب امڈ آیا۔ اس طرح چھوٹے کاشتکاروں کا زندہ رہنا مشکل ہو گیا۔ بہت سے ترقی یافتہ ملکوں نے اپنی زرعی اشیاء پر امدادی رقوم جاری رکھی ہیں۔ اس طرح ان کی اشیاء مصنوعی طور پر سستی ہو جاتی ہیں اور افریقہ بلکہ ایشیا کے کچھ حصوں کے کاشتکار بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘۔

Kwa کہتی ہیں کہ عالمی غذائی بحران کو ختم کرنے کے لیے حکومتوں کو سیاسی عزم و حوصلے سے کام لینا ہوگا تا کہ بین الاقوامی تجارت زیادہ منصفانہ ہو جائے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، دنیا میں جتنے لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، ان میں سے دو تہائی لوگ دنیا کے سات ملکوں میں رہتے ہیں۔ یہ ملک ہیں بنگلہ دیش، چین، بھارت، انڈونیشیا، پاکستان، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، اور ایتھیوپیا۔

XS
SM
MD
LG