رسائی کے لنکس

’یوم آزادی صحافت‘ کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ایسا سازگار ماحول پیدا کیا جائے جس میں صحافی آزادی کے ساتھ اور کسی ڈر خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دے سکیں

اقوام متحدہ کےتوسط سے جمعے کو دنیا بھر میں سالانہ ’یومِ آزادی صحافت‘ منایا گیا، جس کا مقصد آزادی اظہار کی اقدار کو سر بلند کرنا ہے۔

اِس موقع پر، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ ایسا سازگار ماحول پیدا کیا جائے جس میں صحافی آزادی کے ساتھ اور کسی ڈر خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

جمعے کو ایک بیان میں اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں کہیں بھی صحافی قید و بند میں ہیں، اُنھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

کیری نے کہا کہ متعدد ملکوں میں آزادی اظہار کی پاداش میں، صحافیوں کو، اُن کے بقول، کچلا اور ہراساں کیا جاتا ہے، جب کہ اُنھیں قانونی چارہ جوئی، قید و بند اور ہلاکت کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اِس سے قبل، اِسی ہفتے ’فریڈم ہاؤس‘ تنظیم نے عالمی سطح پر آزادی صحافت کا گلہ گھونٹے جانے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ برس دنیا بھر میں ہر چھ میں سے محض ایک شخص کو آزاد صحافت میسر تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرح گِر کر ایک عشرے کی نچلی ترین سطح پر تھی جس کا باعث آمرانہ حکومتوں کی طرف سے اذیت کے حربے استعمال کرنے، معاشی چیلنجز سے سابقہ شامل ہے، جب کہ دوسری طرف مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں۔

’فریڈم ہاؤس‘ نے 64ممالک کی نشاندہی کی ہے جہاں، ادارے کے بقول، میڈیا ’آزاد نہیں‘ ہے۔ اِن میں چین، کیوبا، ایران، شمالی کوریا اور شام شامل ہیں۔

ادھر، پاکستان، برما، مصر، اریٹریا، روس اور وینزویلا ایسے ممالک ہیں جن کا ریکارڈ ’بدترین نوعیت کا‘ بتایا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG