رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ


عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ

عالمی ادارہ صحت کی نئی رپورٹ

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ وہ خطہ ہے جہاں اقوام متحدہ کے طے کردہ میلینیئم ترقیاتی اہداف میں سے صحت کے اہداف سب سے کم پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اس سال کے صحت سے متعلق اعدادوشمار کی رپورٹ میں عالمی صحت کے رجحانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ دنیا بھر میں چھوٹے بچوں کی اموات کی شرح میں کمی ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر 2008ء میں پانچ سال سے کم عمر کے 90 لاکھ سے ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد 1990 ء کے بعد سے 30 فی صد کم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں میں وزن میں کمی کی شرح کم ہوئی ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ملیریا کے نتیجے میں ہونے والی اموات کم ہورہی ہیں اور دنیا بھر کی آبادی کے تقریباً 90 فی صد افراد کو پینے کا محفوظ پانی دستیاب ہے۔

اس پیش رفت کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا 2015ء تک میلینیئم ترقیاتی اہداف حاصل نہیں کرسکتی۔ رپورٹ کے مطابق وہ علاقے جہاں یہ ترقیاتی اہداف سب سے کم پورے ہوسکتے ہیں، افریقہ اور کسی کم حد تک مشرقی بحرروم ہیں۔

عالمی ادارے صحت کے اعدادو شمار، نگرانی اور تجزیے سے متعلق شعبے کی رابطہ کار کارلا ابو ظہر کہتی ہیں کہ اگرچہ افریقہ کی صورت حال عمومی طورپر مایوس کن ہے تاہم کچھ افریقی ملک دوسروں کے مقابلے میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کررہےہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر ہم پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات کوہی پیش نظر رکھیں تو ہم نے اری ٹیریا، ملاوی، ایتھوپیا، موزمبیق ، نیجر اور نمیبیا جیسے ملکوں میں اس میں 40 فی صد تک کمی دیکھی ہے ۔ ان میں سے کئی ملکوں کو 1990ء کے عشرے میں متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑاتھا جن میں خانہ جنگی بھی شامل تھی۔

ابو ظہر کہتی ہیں کہ کچھ شعبوں میں مداخلتوں میں پیش رفت کے اثرات دوسرے شعبوں سے بہتر رہےہیں۔ مثال کے طورپر دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ حفاظتی ٹیکوں اور زچگی کے دوران اور اس کے بعد کی دیکھ بھال میں بہتری آئی ہے۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے دوران ماہرانہ طبی دیکھ بھال یا نمونیہ یا اسہال جیسے امراض کے علاج میں کوئی زیادہ بہتری نہیں آئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں بچوں کی اموات میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ پیدائش کے پہلے مہینے کے دوران نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کو بہتر بنایا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماں کی صحت بدستور ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں میلینیئم ترقیاتی اہداف کے سلسلے میں پیش رفت سب سے مایوس کن رہی ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ خواتین کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ہرسال بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہوجائیں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدی بیماریاں بدستور افریقہ میں اموات کی سب سے بڑی اور بھارت میں ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ لیکن رپورٹ کے مطابق افریقہ سے باہر غیر متعدی بیماریاں مثلاً تمباکونوشی، شراب نوشی اور موٹاپا موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG