رسائی کے لنکس

برطانیہ جلد ’اسلامی بانڈز‘ جاری کرے گا: کیمرون


’بین الاقوامی کاروبار اور سیاسی راہنماؤں‘ کے اجلاس سے خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ برطانیہ کا دارالحکومت اسلامی مالیات کا سرکردہ مرکز بن جائے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ’سکوک بانڈز‘ جاری کرنے والا ہے، اور اس طرح، وہ اسلامی بانڈز جاری کرنے والا پہلا غیر اسلامی ملک ہوگا۔

مسٹر کیمرون نے یہ بات منگل کے روز لندن میں بین الاقوامی کاروبار اور سیاسی راہنماؤں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ برطانیہ کا دارالحکومت اسلامی مالیات کا سرکردہ مرکز بن جائے۔

اُن کے بقول، لوگ برسوں سے مسلمان ملکوں سے باہر، اسلامی بانڈ یا ’سکوک‘ کےجاری کیے جانے کی بات کرتے آئے ہیں، لیکن کبھی ایسا ہو نہیں پایا۔ ایسی تبدیلی لانے کے لیے عملی نقطہٴنظر اور سیای عزم کی ضرورت ہوا کرتی ہے، اور یہاں برطانیہ میں، ہمارے پاس یہ دونوں ہی موجود ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ لندن ’نئی شرعی منڈی کے اشاریہ‘ کا مقام بھی ہوگا، جہاں سے اسلامی طرز کی سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ کا شمار کیا جائے گا۔

اسلامی مالیات اسلامی قانون، جسے شریعہ کہا جاتا ہے، سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں سود پر ممانعت ہےاور سودا صرف و صرف بدلے میں واضح اثاثوں کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔ اس نظام میں محض اندازوں اور مستقبل کے سودوں پر بھی ممانعت ہوتی ہے۔

افغان صدرحامد کرزئی نے لندن کے اجلاس کو، جسے ’عالم اسلام کا اقتصادی فورم‘ بھی کہا جاتا ہے، بتایا کہ اسلامی دنیا میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عالمی افزائش اور خوش حالی کا موجب بن سکے۔

اسلامی سرمایہ کاری کی منڈی پہلے ہی تیزی سے فروغ پا رہی ہے، جس کے بارے میں توقعات یہ ہیں کہ اگلے سال اس کی مالیت دو ٹرلین ڈالر کے برابر ہو جائے گی۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف اور اردن کے شاہ عبد اللہ اِس فورم میں شرکت کرنے والوں میں شامل ہیں، جس میں 1500سے زائد وفود شرکت کر رہے ہیں۔

لندن وہ پہلا غیر مسلمان شہر ہے جس نے اِس اجلاس کا انعقاد کیا، جو فورم نو برس قبل تشکیل دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کیمرون نے کہا کہ عالمِ اسلام کے بعد برطانیہ کا دارالحکومت پہلے ہی اسلامی مالیات کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG