رسائی کے لنکس

دنیا کے 130 سے زائد ملکوں میں ہونے والے اس گیلپ سروے میں، جس میں تقریباً 1000 بالغ افراد نے حصہ لیا، امریکہ کو سب سے اونچی شرح پر بتایا گیا،جس کے بعد جرمنی، یورپی یونین، چین اور پھر کہیں روس کا درجہ آتا ہے

اہم عالمی طاقتوں کی مقبولیت کے حوالے سے 130 سے زائد ملکوں میں کرائے گئے ایک عوامی جائزے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ متواتر آٹھویں برس بھی روس سب سے نچلی سطح پر قرار پایا ہے، ایسے میں جب گذشتہ سال یوکرین میں مداخلت کے نتیجے میں روس کی مقبولیت کی سطح میں تیزی سے کمی آئی۔

اِن ممالک میں ہونے والے اس گیلپ سروے میں، جس میں تقریباً 1000 بالغ افراد نے حصہ لیا، امریکہ کو سب سے اونچی شرح پر بتایا گیا، جس کے بعد جرمنی، یورپی یونین، چین اور پھر کہیں روس کا درجہ آتا ہے۔

عوامی سروے منعقد کرانے والی اس بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ یہ نتائج ویسے ہی ہیں جیسا کے گذشتہ چھ برسوں کے دوران سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم، گیلپ کا کہنا ہے کہ مغرب سے وابستہ ممالک نے، خاص طور پر وہ جن کا تعلق نیٹو کے فوجی اتحاد سے ہے، ڈرامائی طور پر روس کےخلاف رائے دی۔

دریں اثنا، گیلپ نے کہا ہےکہ روس اور اُس کےمتعدد سابق جمہوریاؤں میں رہنے والے لوگ، خاص طور پر قزاقستان، بیلاروس، کرغیزستان اور تاجکستان میں کرائے گئے جائزے کے شرکا نے امریکی، یورپی یونین اور جرمنی کے بارے میں سب سے زیادہ منفی رائے دی۔
گیلپ نے کہا ہے کہ 21 سے زائد ملکوں میں روس کی مقبولیت میں 10 فی صد کی شرح سے کمی واقع ہوئی، جب کہ 41 ملکوں کے مکینوں کی اکثریت نے روسی پالیسیوں کو نامنظور کیا، جس کے مقابلے میں امریکی قیادت کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والے ملکوں کی تعداد تقریباً تین گنا کم ہے۔

عام جائزے میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین کا تنازع جس میں روس اور مغربی ممالک کے مابین تعلقات میں تعطل جاری ہے، یہ 2014ء کے دوران دنیا بھر میں سب کی نظروں میں رہا، اسی دوران امریکہ اور یورپی یونین کے لیے روس کی حمایت کا گراف نیچے آیا۔

سنہ 2013 کے مقابلے میں 2014ء میں، امریکہ کے لیے روسیوں کی ناپسندیدگی میں 42 فی صد سے بڑھ کر 82 فی صد تک پہنچ گئی ہے؛ جب کہ اسی مدت کے دوران، یورپی یونین کی مقبولیت 26 سے 70 فی صد کم ہوگئی ہے۔

گیلپ نے روس اور مغربی ملکوں کے رویوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کوخطرے کی گھنٹی قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق سرد جنگ کے مخالفین کے درمیان تقسیم کا یہ بڑھتا ہوا رجحان آئندہ نسلوں کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ عام رویے درحقیت بیرونی پالیسی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG