رسائی کے لنکس

آبادی کا عالمی دن اور دنیا کو درپیش مسائل


آبادی کا عالمی دن اور دنیا کو درپیش مسائل
آبادی کا عالمی دن اور دنیا کو درپیش مسائل

اس سال آبادی کے عالمی دن کا موضوع اہم عالمی مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کچھ ملکوں میں آبادی میں اضافہ یقیناً ایک اہم مسلہ ہے۔ اس سال یہ دن اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ چند ہی ماہ میں دنیا کی آبادی سات ارب ہونے کو ہے۔آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کےادارے یواین پاپولیشن فنڈسے منسلک ہوزے میگوئل گزمین کہتے ہیں کہ ان کے پروگرام کا مقصد آبادی پر کنٹرول نہیں بلکہ لوگوں میں آگہی پیدا کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد آبادی کی رفتار کو کم کرنا نہیں بلکہ یہ کہ اس سلسلے میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ ممالک میں قانون سازی کے مواقع ہیں۔ اور کئی ممالک میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے جس کی اہم وجہ ان علاقوں میں بچوں کی پیدائش اور نگہداشت سے متعلق ماؤں کے لئے طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی اکیس کروڑ خواتین ان سہولتوں تک رسائی چاہتی ہیں جو مختلف مشکلات کے باعث ممکن نہیں۔ خواتین میں تعلیم اور آگہی پیدا کرنے سے پیدائش میں کمی ممکن ہے مگر اس کا مقصد شرح پیدائش کم کرنا ہر گز نہیں۔

دنیا بھر میں بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کی فراہمی ہے۔چالیس پچاس سال پہلے خدشات تھے کہ آبادی میں اضافے سے خوراک میں کمی آئے گی۔ مگر یونیورسٹی آف مشی گن میں آبادیاتی مطالعے کے مرکز سے منسلک سے منسلک پروفیسر ڈیوڈ لیم کہتے ہیں کہ یہ خدشات درست ثابت نہیں ہوئے اور آبادی کے مقابلے میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہناہے کہ پچھلے 50 برسوں میں دنیا کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے وسائل پر دباؤ پڑا ہے۔ 1960ءاور 1999ءکے دوران دنیا کی آبادی تین ارب سے چھ ارب ہوئی ۔ انسانی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ پھر کبھی ہوگا۔اس کی وجہ سے بہت سے چیلنجز پیدا ہوئے۔مگر ہم نے کافی اچھی طرح اس صورتحال کا مقابلہ کیا۔ 60 کی دہائی میں تشویش تھی کہ خوراک کی پیداوار میں کمی آئے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ خوراک کی پیداوار آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ اور میڈیکل سائنس میں ترقی اور تعلیم کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کے مسلے پر قابو تو پا لیا گیا مگر کئی عشروں کے بعد اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ممالک میں آبادی میں کمی آرہی ہے اور بوڑھے افراد کی آبادی دوسرے طبقوں کے مقابلے میں زیادہ ہو رہی ہے۔ مگر دوسری طرف دنیا بھر کی نصف آبادی ا یسے لوگوں کی ہے جو 25سال سے کم عمر ہیں۔غریب ممالک میں آبادی پر کنٹرول آسان نہیں اور ہوزے کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ ان ممالک میں خواتین کے لئے صحت کی سہولتوں کا نہ ہونا ہے ۔

ماہرین کا خیال ہے کچھ ترقی پذیر ممالک میں غیر مستحکم سیاسی نظاموں کی بنا پر آبادی سے متعلق معاملات کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ اور اسی طرح کچھ ممالک میں آبادی پر کنٹرول کے لئے پالیسی سازی میں ٕروایتی اور مذہبی نظریات آڑے آتے ہیں۔ ایسے میں تعلیم اور طبی سہولتوں میں سرمایہ کاری ہی بہترین حل ثابت ہو سکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG