رسائی کے لنکس

آبادی میں اضافے سے بڑھتے ہوئے مسائل

  • روزین سکربل

آبادی میں اضافے سے بڑھتے ہوئے مسائل

آبادی میں اضافے سے بڑھتے ہوئے مسائل

گزشتہ صدی میں آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا تھا اس میں اب کمی آ گئی ہے، لیکن صحت کی دیکھ بھال کے بہتر انتظامات اور بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں شرح پیدائش کی مسلسل اونچی شرح کی وجہ سے، دنیا کی آبادی میں اب بھی ہر سال آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ تا ہم ، اس ہفتے جاری ہونے والی 2010 کی ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ کے مطابق، دنیا کے خوشحال ملکوں میں کام کرنے کی عمر کے لوگوں کی تعداد اتنی تیزی سے کم ہو رہی ہے کہ ان کے لیے اپنی معمر آبادی کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو جائے گا جب کہ دنیا کے غریب ملکوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے غربت اور ماحول کے مسائل اور زیادہ شدید ہو جائیں گے ۔

2010 میں دنیا کی آبادی چھ اعشاریہ نو ارب ہو گئی۔ آبادی میں تقریباً سارا اضافہ ترقی پذیر ملکوں میں ہوا۔واشنگٹن میں قائم ریسرچ گروپ پاپولیشن ریفرنس بیورو ہر سال ڈیٹا شیٹ تیار کرتا ہے ۔ اس گروپ کے صدر بِل بٹز کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے آبادی میں اضافے کی مسلسل اونچی شرح مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اس سے آنے والے نسلوں کے لیے بھی مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔اس سال کی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ہر سال آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہوتا ہے اور اس میں سے دو کروڑ افراد کی آبادی غریب ترین ترقی پذیر ملکوں میں بڑھتی ہے۔ سن 2050 تک صرف افریقہ کی آبادی میں ایک ارب کا اضافہ ہو چکا ہوگا۔

آبادی کے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں شرح پیدائش بالآخر کم ہو جائے گی۔ صنعتی ملکوں میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔ تا ہم، 2010 کی ڈیٹا شیٹ کے مطابق، 2050تک آبادی میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً ایک اعشاریہ تین ارب افراد کا اضافہ ایشیا میں ہوگا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کم عمر افراد پر مشتمل آبادی کے لیے صحت ، تعلیم اور اقتصادی ضروریات پوری کرنے کے لیے، حکومتوں پر بوجھ بہت بڑھ جائے گا۔ اس کے برخلاف، ترقی یافتہ دنیا میں مسئلے کی نوعیت بالکل مختلف ہو گی۔ ان ملکوں میں کافی عرصے سے شرح پیدائش اتنی کم ہو گئی ہے کہ کام کرنے کی عمر کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ یوں ان ملکوں میں بوڑھے لوگوں کو زندگی کی سہولتیں فراہم کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ۔

پاپولیشن ریفرنس بیورو کے کارل ہایُب ایتھیوپیا اور جرمنی کی مثال سے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کی آبادی برابر ہے، لیکن اس کے علاوہ ان میں کوئی اور چیز مشترک نہیں۔2050 تک ، توقع ہے کہ ایتھیویا کی آبادی دگنی یعنی موجودہ آٹھ کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 17 کروڑ 40 لاکھ ہو جائے گی ۔ اسی مدت میں جرمنی کی آبادی آٹھ کروڑ 20 لاکھ کی موجودہ آبادی سے کم ہو کر سات کروڑ 20 لاکھ رہ جائے گی۔

کارل ہایُب کہتے ہیں’’ایتھیوپیا میں بچوں کی سالانہ شرح پیدائش 33 لاکھ ہے، جب کہ جرمنی میں ہر سال چھ لاکھ 50 ہزار بچے پیدا ہوتےہیں۔ اب ذرا بچوں کی شرح اموات پر نظر ڈالیے۔ ایتھیوپیا میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار بچوں میں سے 77 ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ جرمنی میں یہ شرح تین اعشاریہ پانچ ہے ۔‘‘

ہایُب کہتے ہیں کہ جرمنی میں شرح پیدائش بہت کم ہونے کی وجہ سے، جرمنی میں کام کرنے والے بالغ افراد کی تعداد کم ہو گئی ہے ۔’’جرمنی میں پہلے ہی یہ حالت ہو گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جانے والے ہر فرد کے لیے صرف تین کام کرنے والی عمر کے لوگ ہیں۔ انہیں فوری طور پر پینشن اور علاج معالجے کے نظام میں بحران کا سامنا ہے اور وہ اس مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں یورپ پہلا علاقہ ہے جسے لمبے عرصے کے لیے شرح پیدائش میں کمی کا سامنا ہے ۔آج کل یورپ میں 65 برس کی عمر کے ایک فرد کے لیے 4 کام کرنے والی عمر کے افراد ہیں۔2050 تک یہ تناسب کم ہو کر دو اور ایک کا ہو جائے گا۔ انٹرنیشنل پروگرامز فار دی پاپولیشن ریفرنس بیورو کے جیمز گربل کہتے ہیں کہ جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جن سے بوڑھے لوگوں کی ریٹائرمنٹ اور صحت کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کی تعداد کافی ہو تا کہ وہ بڑے ہو کر لیبر فورس میں شامل ہوتے رہیں۔

آبادی میں اضافے سے بڑھتے ہوئے مسائل

آبادی میں اضافے سے بڑھتے ہوئے مسائل

توقع ہے کہ امریکہ میں 2050 تک 65 برس اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد 4 کروڑ سے بڑھ کر8 کروڑ90 لاکھ یعنی دگنی ہو جائے گی۔ اور امریکہ کی کُل آبادی جو آج کل 31 کروڑ ہے، 42 کروڑ ہو جائے گی۔ آبادی میں اضافے کا انحصار امریکہ آکر بسنے والوں کی تعداد پر ہو گا۔

پاپولیشن ریفرنس بیورو کی لِنڈا جیکبسن کہتی ہیں’’ترک وطن کر کے امریکہ آنے والے لوگ بوڑھے لوگوں اور کام کرنے کی عمر کے لوگوں کے درمیان تناسب کو بہتر بنا سکتے ہیں اور سوشل سکیورٹی کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلے کا حتمی حل ہے، لیکن اس سے یہ ضرور ہوا ہے کہ امریکہ میں آبادی کی صورت ِ حال ویسی نہیں ہے جیسی جاپان میں اور مغربی یورپ کے بعض ملکوں میں نظر آتی ہے ۔‘‘

2010 کا ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ دنیا کے 200 سے زیادہ ملکوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے ۔ پالولیشن ریفرنس بیورو کے صدر بل بٹز کو امید ہے کہ ان کی رپورٹ سے پالیسی سازوں کو آبادی میں اضافے سے عالمی صحت ، معیشت اور ماحول کے لیے پیدا ہونےو الے مسائل کی واضح تصویر ملے گی۔

XS
SM
MD
LG