رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش


دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش

دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش

ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010ء کے اواخر تک دنیا بھر میں تقریباً چار کروڑ 37لاکھ افرد تنازعات کے باعث جبری طورپر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جو کہ گزشتہ 15سالوں کے دوران بے گھر اور پناہ گزینوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ رپورٹ مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یواین ایچ سی آر) نے جاری کی ہے جو مہاجرین اور اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کو مدد فراہم کررہا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق تنازعات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے والے افراد کی تعدادمیں اضافہ ہواہے ۔ گزشتہ برسوں کی نسبت 2010ء میں کم تعداد میں پناہ گزین اور نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو لوٹے ہیں جب کہ کسی تیسرے ملک میں آباد ہونے والوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں اس صورتحال کو ایک بری علامت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ مہاجرین کے مسئلے کے پائیدار اور دیرپا حل میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے نائب ہائی کمشنر برائے مہاجرین الیگزینڈر الینیکوف کہتے ہیں کہ ستر لاکھ سے زائد مہاجرین پانچ سال سے زائد عرصے سے جلاوطن کی زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ کو تیس سال سے زائدکا عرصہ ہوچکا ہے۔ان کے بقول مستقبل قریب میں ان مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔

”ان مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کی شرح بہت ہی کم ہے۔ہر سال دنیا بھر میں مہاجرین کا تقریباً ایک فیصد یا پھر اس سے بھی کم دوبارہ آباد ہورہے ہیں۔اس سال یہ ایک کروڑ میں سے ایک لاکھ سے بھی تعداد ہوگی جو کہ دوبارہ اپنے گھروں کو جاسکے گی۔ 2010ء میں دو لاکھ سے بھی کم لوگ اپنے گھروں کو واپس گئے جو کہ ایک دہائی میں دوبارہ آبادکاری کی سب سے کم تعداد تھی۔“

الینیکوف کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے کی وجوہات ختم نہیں ہورہی ہیں اور اس سال بھی شمالی افریقہ، آئیوری کوسٹ ،شام اور سوڈان میں نئے تنازعات اور جھگڑے شروع ہوچکے ہیں ۔مزیدبرآں ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں لاکھوں افراد قدرتی آفات(زلزلے، سیلاب اور آتش فشاں کے پھٹنے) سے بے گھر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ایران اور شام میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ جب کہ ایران اور شام تقریباً ایک ، ایک لاکھ مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔

یواین ایچ سی آر کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صنعتی ممالک میں مہاجرین کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ اقتصادی بحران، مذہبی اورثقافتی تفرقات ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیر ممالک کا ماننا ہے کہ ان کے ہاں مہاجرین کی بڑی تعداد موجود ہے اور اب وہ ان کے لیے دروازے بند کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG