رسائی کے لنکس

صحت عامہ کا گمبھیر مسئلہ

  • صفیہ کاظم
  • واشنگٹن

صحت عامہ

صحت عامہ

ایک اندازے کے مطابق ایک ارب سے زیادہ عورتوں کو صحت و صفائی کی سہولتیں میسر نہیں، نہ تو گندے پانی اور فضلے کی نکاسی کا انتظام ہے اور نہ ہی ان کے گھروں میں بیت الخلا ہیں

پیر 19نومبر کو ’ورلڈ ٹائلیٹ ڈے‘ منایا گیا۔ یہ نام مضحکہ خیز لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے جو مسئلہ ہے وہ اتنا گھمبیر ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایک اندازے کے مطابق ایک ارب سے زیادہ عورتوں کو صحت و صفائی کی سہولتیں میسر نہیں ہیں، نہ تو گندے پانی اور فضلے کی نکاسی کا انتظام ہے اور نہ ہی ان کے گھروں میں بیت الخلا ہیں۔

’ورلڈ ٹائلیٹ ڈے‘ کے موقعے پر ایک غیر سرکاری تنظیم ’واٹر ایڈ‘ کی سربراہ، باربرا فروسٹ نے کہا ہے کہ بیت الخلا میسر نہ ہونے کے سبب انہیں کھیتوں میں جانا پڑتا ہے، یعنی یہ کہ رفع حاجت کے لیے وہ رات کا انتظار کرتی ہیں۔ یہ اُن کی صحت اور سکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ افریقہ میں یہ مسئلہ بہت ہی گھمبیر ہے جہاں 10میں سے سات عورتوں کے لیے محفوظ بیت الخلا نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارت میں بھی یہ مسئلہ تشویش کا باعث ہے۔

صحت و صفائی کے ناقص انتظام کے سبب عورتوں اور لڑکیوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سی نوجوان لڑکیاں اسکول جانا چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ ان کے لیے ایسی کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوتی جہاں رفع حاجت کے لیے جاسکیں۔

تفصیلی رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG