رسائی کے لنکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہٴ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔۔ ’ڈبلیو ایم او‘ کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، 2015ء میں عالمی اوسط درجہٴ حرارت اب تک درج تاریخ کا ریکارڈ گرم ترین سال تھا۔

ادارے نے بتایا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہٴ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔
موسمیاتی ادارے کے سربراہ، مائیکل جیراڈ کے بقول، ’سنہ 2015 اب تک ریکارڈ کی گئی تاریخ کے مقابلے میں گرم ترین سال تھا، جس دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت جب سے ناپ تول کا باقاعدہ نظام وضع ہوا ہے، اپنی اونچی ترین سطح پر تھا۔ عین ممکن ہے کہ ایک ڈگر سیلشئس کی سطح عبور ہو جائے گی‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’یہ کرہ ارض کے لیے ایک انتہائی خراب خبر ہے‘۔

’ڈبلیو ایم او‘ کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں۔

جیراڈ کے الفاظ میں، ’ہم النینو کے زوردار وقوعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو ابھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کے متعدد خطوں پر پڑنے والے موسمیاتی اثرات کی شنید دیتا ہے۔ گذشتہ اکتوبر کا مہینہ غیرمعمولی طور پر گرم تھا۔ النینو کےتپش کے عوامل میں سال 2016 کے دوران اضافہ مزید جاری رہنے کا امکان ہے‘۔

ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق، پانچ سالہ مدت، سنہ 2011 سے 2015ء تک، تپش کا ریکارڈ دور تھا، جس دوران موسمیات کے کئی ایک ریکارڈ قائم ہوئے، جس میں موسمیاتی تبدیلی پر لو لگنے کے واقعات کے اثرات نمایاں تھے‘۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی امریکہ میں یہ اب تک کا گرم ترین سال تھا، جب کہ ایشیا میں 2007ء گرم ترین سال تھا، اور جہاں تک افریقہ اور یورپ کا تعلق ہے، یہ سال دوسرا گرم ترین سال تھا۔

جیراڈ کے بقول، ’گرین ہاؤس گیس کا اخراج، جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث ہے، اُسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس اتنی سمجھ بوجھ اور آلات میسر ہیں کہ بہتر اقدام ہوسکتا ہے‘۔

رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اگلے ہفتے پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ موسمیاتی تبدیلی کا عالمی اجلاس منعقد ہونے والا ہے، جس میں عالمی سربراہان مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔
اس اجلاس سے پہلے، اب تک دنیا کے تقریباً 150 ملکوں نے گرین ہاؤس گیس کے اخراج پر کنٹرول کی کاوشوں کا حصہ بننے کا عہد کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے باعث عالمی تپش کو تین ڈگری سیلشئس تک کم کیا جاسکتا ہے؛ جو کہ ایک ڈگری کی مزید کمی ہے، جب کہ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں موسم میں ناقابل بیان منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG