رسائی کے لنکس

عالمی دن کے موقع پر خواتین اراکین پارلیمان کے تاثرات

  • ج

عالمی دن کے موقع پر خواتین اراکین پارلیمان کے تاثرات

عالمی دن کے موقع پر خواتین اراکین پارلیمان کے تاثرات

جمعرات کو دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں بعض اہم قوانین کی منظوری کے باوجود ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور رواں سال مختلف واقعات میں گیارہ سو سے زائد خواتین کی ہلاکت سرکاری دعوؤں کی نفی ہوتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پاکستان مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والی سینیٹر فوزیہ فخر زمان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی قانون سازی کے باوجود بھی ان کے خلاف تشدد میں کوئی کمی یا ان کی مجموعی حالت زار میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی جس کی وجہ ان کے مطابق یہ ہے کہ قوانین کا موثر طور پر نفاذ نہیں کیا گیا۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سعیدہ اقبال بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کے عورتوں پر تشدد کے سلسلے میں صورت حال بہتر نہیں ہوئی لیکن ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مثبت تبدیلی لانا صرف قوانین کے ذریعےممکن نہیں ہوتا۔

’’اس کے لیے معاشرے کے ہر طبقے اور باشعور فرد کو کردار ادا کرنا ہو گا جو اثر رسوخ رکھتا ہے اور شعور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔

بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کی سینیٹر کلثوم پروین یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ پارلیمان میں ایک ایسی طاقتور لابی موجود ہے جو ہر اس اقدام میں رکاوٹ ڈالتی ہے جو عورتوں کے حقوق کے لیے ہوں۔ ان کا اشارہ بظاہر مذہبی جماعتوں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی طرف تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی سینیٹر نجمہ حمید کہتی ہیں کہ پارلیمان میں خواتین نمائندگان کی موجودگی بہرحال مظلوم خواتین کو ایک آواز فراہم کر رہی ہے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

پناہ گزنیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ایک سینئر عہدیدار خاسم دیانگی کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ مہاجر خواتین اورحالیہ سیلاب کے بعد بے گھر ہونے والی خواتین کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ وہ ایک با وقار زندگی گزار سکیں۔

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جمعرات کو ادارے نے اسلام آباد میں ایک خصوصی میلے کا بھی اہتمام کیا جس میں افغان اور سومالی خواتین نے اپنے اپنے سٹال لگائے اور دست کاری سمیت کئی دوسری اشیاء کی نمائش کی۔

XS
SM
MD
LG