رسائی کے لنکس

عالمی بینک کی غریب ترین ملکوں کی ریکارڈ مالی امداد


عالمی بینک کے صدر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل

عالمی بینک کے صدر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل

’جون میں ختم ہونے والے سال کے دوران انتہائی غریب ملکوں کو 16 ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے، جس میں سے نصف رقوم افریقی ممالک اور ایک چوتھائی جنوبی ایشیا کے ملکوں کو دیے گئے‘

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران دنیا کے غریب ترین ممالک کو مالی امداد کے طور پر ریکارڈ رقوم فراہم کی گئیں۔

واشنگٹن میں قائم قرضہ جات اور ترقیات سے متعلق اِس ادارے نےمنگل کے روز بتایا کہ جون میں ختم ہونے والے سال کے دوران انتہائی غریب ملکوں کو 16ارب 30کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے، جس میں سے نصف رقوم افریقی ممالک اور ایک چوتھائی جنوبی ایشیا کے ملکوں کو دیے گئے۔

پچھلے سال کے مقابلے میں عالمی بینک نے 14 ارب 70 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد فراہم کی۔

عالمی بینک نے بتایا کہ مجموعی طور پر، ادارے نے 52 ارب اور 60 کروڑ ڈالر قرضہ جات، گرانٹس اور دیگر مالی اعانت کی صورت میں دنیا بھر میں جاری 2000 کے لگ بھگ منصوں کے لیے مہیا کیے۔

گذشتہ سال کے اِسی عرصے کے مقابلے میں یہ رقم نسبتاً تھوڑی تھی، جس کا سبب متوسط آمدن والے ملکوں میں اعانت کی طلب میں آنے والی کمی تھی۔

عالمی بینک کے صدر، جِم یانگ کِم نے بتایا کہ ادارہ ترقی پذیر ملکوں کی فنڈز کی ضروریات کو پورا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اُن کے بقول، صورت حال اب بھی ’غیر یقینی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ دو نئے اہداف حاصل کرنے کے لیے ادارہ اپنی کوششوں کو یکجا کر رہا ہے۔

یہ دو اہداف ہیں، 2030ء تک دنیا سے انتہائی غربت کا خاتمہ اور ترقی پذیر ملکوں کے نچلے ترین 40فی صد طبقے کی آمدن میں اضافہ لانا۔

عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں انتہائی درجے کی غربت ایک فرد کی کمائی سوا ڈالر روزانہ سے کم کو شمار کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG