رسائی کے لنکس

بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے کو دوسری آزمائشی پرواز کے دوران نقصان پہنچا ہے، جبکہ اس حادثے میں جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور کوئی زخمی نہیں ہوا

دنیا کا سب سے طویل ترین اور بڑا طیارہ ائیر لینڈر 10 آزمائشی پرواز کے دوران بیڈ فورڈ شائر میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

92 میٹر لمبا طیارہ ائیر لینڈر کئی سالوں تک تکمیل کے مراحل میں تھا اور 17 اگست کو کامیابی کے ساتھ اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کی تھی۔

تاہم، بدھ کی صبح بیڈ فورڈ شائر میں دوسری آزمائشی پرواز کے دوران طیارے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ طیارہ کا سامنے والا حصہ زمین میں دھنس گیا ہے۔

ہائبرڈ ائیر ویہیکلیز نے برطانیہ میں طیارے کو تیار کیا ہے کمپنی نے ایک ٹویٹ میں اس حادثے کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے کو دوسری آزمائشی پرواز کے دوران نقصان پہنچا ہے جبکہ اس حادثے میں جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

چار ڈیزل انجن سےچلنے والے طیارے کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ طیارے کو مختلف اقسام کے کاموں مثلا نگرانی، مواصلات، امداد کی فراہمی اور مسافروں کے لیے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ 44 میٹر چوڑے اور 26میٹر بلند طیارہ پانچ دنوں کے لیے اڑان بھرنے کے قابل ہو جائے گا اور 2021 تک 10 ائیر لینڈر تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ائیر لینڈر دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار طیارہ جیٹ کے مقابلے میں 15 میٹر لمبا ہے اور 92 میل فی گھنٹہ پرواز کے لیے ہیلیم کا استعمال کرتا ہے۔

25 ملین لاگت سے تیار کئے جانے والے طیارے کو آزمائشی پروازوں کے دوران 200 گھنٹے کی پرواز مکمل کرنی تھی، جبکہ طیارے نے پہلی آزمائشی پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کی پرواز مکمل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG