رسائی کے لنکس

انگیبورگ نے اپنے بیان میں کہا کہ انھوں نے 102 سال کی عمر میں اپنے مقالے کا دفاع صرف اپنے لیے نہیں کیا بلکہ یہ ان کے لیے تھا جو اس دور میں ناانصافی کا شکار ہوئے تھے۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون انگیبورگ سلم رپوپورٹ کو نوجوانی میں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالےکا دفاع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن لگ بھگ آٹھ عشروں کے بعد 102 سال کی عمر میں وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی دنیا کی معمر طالبہ بن گئی ہیں۔

انگیبورگ سلم نے 1938 میں خناق کی بیماری پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا تھا، لیکن چونکہ ان کی ماں ہیودی تھی اس لیے نازیوں کے یہود دشمن نسلی قوانین کے تحت انھیں یونیورسٹی کی طرف سے زبانی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اخبار گارڈین کے مطابق جرمنی میں ہیمبرگ یونیورسٹی کے نیونیٹل یا نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے ماہرین نے انھیں گذشتہ ماہ ایک زبانی امتحان میں پاس کر دیا ہے جس کے بعد انگیبورگ سلم نے منگل کو یونیورسٹی کی ایک شاندار تقریب میں اسی برس بعد اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری وصول کی ۔

یونیورسٹی کے ترجمان کرسٹین گراف کے مطابق انگیبورگ نے اپنے بیان میں کہا کہ انھوں نے 102 سال کی عمر میں اپنے مقالے کا دفاع صرف اپنے لیے نہیں کیا بلکہ یہ ان کے لیے تھا جو اس دور میں ناانصافی کا شکار ہوئے تھے۔

انگبورگ سلم نے جب یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ جمع کرایا تھا، تو انھیں اس وقت کے سپروائزر رڈولف کا ایک خط ملا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ وہ خناق پر ان کا مقالہ ضرور قبول کر لیتے اگر اس دور کے نازی قوانین انھیں اس کی اجازت دیتے۔

انھوں نے واضح الفاظ میں لکھا کہ انگیبورگ سلم کو ڈاکٹریٹ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

ہیمبرگ یونیورسٹی کے میڈیکل فیکلٹی کے ڈین ایوے کوش گرامس نے زبانی امتحان کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر کہا کہ ان کا امتحان خناق کے موضوع پر تھا جیسا کہ انھوں نے اصل تھیسس خناق پر لکھا تھا تاہم ان کا کام شاندار تھا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں ان کy دانشوارنہ نقطہ نظر اور مہارت نے بہت متاثر کیا ہے اور قطع نظر اس کے انھوں نے جدید طب کےحوالے سے بھی ہمیں لاجواب کر دیا ہے۔

1933 میں نازیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی سے یہودیوں کی بے دخلی کا عمل شروع ہوا پہلے انھیں آہستہ آہستہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے نکالنا شروع کیا گیا اور بعد کے سالوں میں جرمنی یہودیوں کے رہنے کے لیے ایک خطر ناک جگہ بن گئی تھی۔

ہیمبرگ یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر بکہارڈ گوگ نے اپنی تقریر میں کہا 'اسی سالوں بعد انصاف کو کسی حد تک بحال کرنا ممکن ہوا ہے'۔

"ہم اس ناانصافی کو رد نہیں کر سکتے ہیں جس کا ارتکاب کیا گیا تھا، لیکن ہماری ماضی کی بصیرت سے مستقبل کے لیے نقطہ نظر کی تشکیل ہوئی ہے۔"

انگیبورگ سلم رپوپورٹ بالاآخر 1938 میں اپنی ڈگری لیے بغیر ہی جرمنی سے امریکہ ہجرت کر گئیں جہاں انھوں نے فلاڈلفیا یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کی اور بعد میں وہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کیا ۔

1952میں وہ اپنے شوہر اور چار بچوں کے ساتھ مشرقی برلن منتقل ہو گئیں اور چیریٹی یونیورسٹی اسپتال برلن میں بچوں کے ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا ۔

XS
SM
MD
LG