رسائی کے لنکس

آزادی اظہار، زکربرگ اور حقیقت: ’واشنگٹن پوسٹ‘


فائل

فائل

’بی بی سی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’فیس بک‘ نے پیغمبر اسلام سے متعلق نامعلوم ’متعدد قابل اعتراض‘ پیجز بند کردیے ہیں، جس سے قبل انقرہ کی ایک مقامی عدالت نے اِس سلسلے میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بدھ کے روز ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’فیس بک‘ کے سی اِی او، مارک زکربرگ نے صرف دو ہفتے قبل فرانسسی جریدے ’چارلی ہیبڈو‘ کی حمایت میں آزادی اظہار کی اہمیت پر کھل کر بیان جاری کیا تھا۔ لیکن، رپورٹ کے مطابق، اب فیس بک نے اس بات سے اتفاق کر لیا ہے کہ ترکی میں پیغمبر اسلام سے متعلق خاکوں کو سنسر کیا جائے گا، جس میں اُس طرح کے خاکے بھی شامل ہیں، جو ’چارلی ہیبڈو‘ پر حملے کا باعث بنے۔

شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ’اس سے، اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ انٹرنیٹ پر اظہار رائے کے مضمرات کس طرح انتہائی پیچیدہ اور تنازع کھڑا کرنے کے باعث بن سکتے ہیں‘۔

اخبار کے مطابق، ’ناقدین کی نظر میں، اس سے زکربرگ کی جانب سےآزادی اظہار سے متعلق اس سے قبل ہونے والے اعلان کے برعکس ایک حتمی ثبوت میسر آگیا ہے کہ انتہائی درجے کے عہد و پیماں اچھی بات تو ہیں، لیکن فیس بک کا ریکارڈ اس کی مکمل پاسداری کے معیار پر پورا اترنے سے قاصر ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’الیکسی نوالنی، روس میں پیوٹن کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم، روسی انٹرنیٹ ضابطہ کاروں کے کہنے پر، فیس بک نے نوالنی کے پیج کو سنسر کرنے پر اتفاق کیا‘۔

اخبار کے نامہ نگار، مائیکل برنبام کے الفاظ میں، یہ معاملہ اس بات کا غماز ہے کہ سیاسی مخالفین کی تحاریک کے طور پر فیس بک کا پلیٹ فارم محدود استعداد رکھتا ہے۔

اس ضمن میں، اخبار نے ناقدین کے اُس الزام کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں شام اور چین کے منحرفین کا حوالہ دیا گیا ہے، جِن کے فیس بک صفحات، بقول اخباری رپورٹ، بند کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، تبت کے معاملے پر بین الاقوامی مہم نے بھی اپنی ایک عرض داشت جاری کی ہے، جس میں شکایت درج ہے کہ، مبینہ طور پر، فیس بک نے اُن پر سینسرشپ لگا دی ہے۔ اس درخواست پر 20000 سے زائد افراد کے دستخط شامل ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ حالانکہ تکنیکی طور پر چین میں فیس بک کو کام کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم، گذشتہ دسمبر میں، فیس بک نے چینی سیاست دانوں اور انٹرنیٹ ضابطہ کاروں سے رابطے کی کوششیں کی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ فیس بک چین کے 64 کروڑ 80 لاکھ انٹرنیٹ صارفین کو فیس بک کا سینسر شدہ چہرہ دکھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

رپورٹ میں ’بی بی سی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فیس بک نے پیغمبر اسلام سے متعلق نامعلوم ’متعدد قابل اعتراض‘ پیجز بند کردیے ہیں، جس سے قبل انقرہ کی ایک مقامی عدالت نے اس سلسلے میں ایک حکم نامہ صادر کیا تھا۔

اخبار نے ایک ایسے شخص کا حوالہ دیا ہے جو حالات سے باخبر ہیں، لیکن اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ بقول اخبار، اُن کا کہنا ہے کہ فیس بک نے مشتملات کو بلاک کرنے کا اقدام کیا ہے، جس کا مقصد ترکی کے اس عدالتی فیصلے کے تحت یہ مواد انٹرنیٹ پر دکھانے سے احتراز کیا جائے گا۔ ․

ساتھ ہی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں سماجی میڈیا کے جن اداروں نے ترکی کی طرف سے کی گئی درخواست پر عمل نہیں کیا، جن میں ’ٹوئٹر‘ اور ’یوٹیوب‘ شامل ہیں، اُنھیں ترکی میں مکمل طور پر بلاک کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG