رسائی کے لنکس

امریکی عوام کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں ’عدم دلچسپی‘

  • جم میلون

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور عراق میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی جنگوں کے بعد امریکہ کے عام لوگوں میں بیرونی ملکوں میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور عراق میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی جنگوں کے بعد امریکہ کے عام لوگوں میں بیرونی ملکوں میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بیرونی ملکوں میں فوجیں بھیجنے کی مخالفت کی وجہ سے ان سرگرم کارکنوں کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جو چاہتے ہیں کہ امریکہ ایسے تنازعات میں جیسے شام کی خانہ جنگی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔

ڈین لیمین سیریئن سپورٹ گروپ سے وابستہ ہیں جو فنڈز جمع کرتا ہے اور فری سیریئن آرمی کے اعتدال پسند دھڑوں کو ‘نان لیتھل ایڈ’ یعنی غیر مہلک امداد بھیجتا ہے۔

غیر مہلک امداد سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو ہلاک یا زخمی کرنے میں استعمال نہ ہوتی ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ شام کو جو امداد دی جا رہی ہے اس میں ہتھیار یا گولہ بارود شامل نہیں کیا جا سکتا۔

سیرئین سپورٹ گروپ شامی امریکیوں نے قائم کیا ہے جو شام میں اسد حکومت کے خلاف ہیں اور جو امریکی عوام میں باغیوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن لیمین کہتے ہیں کہ اس تنازعے میں امریکیوں کی دلچسپی حاصل کرنا بڑا مشکل ثابت ہوا ہے۔

‘‘جہاں تک کسی تنازعے میں دلچسپی لینے کا سوال ہے، تو امریکہ کے لوگ افغانستان میں جاری جھگڑے سے کسی حد تک تھک چکے ہیں اور عراق میں جو وسائل خرچ ہوئے اور جتنا جانی نقصان ہوا وہ اس پر بھی خوش نہیں ہیں۔ لہٰذا شام کے معاملے میں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کرنا کسی حد تک مشکل ہے۔’’

امریکیوں میں بیرونِ ملک جھگڑوں میں الجھنے کے بارے میں جو ہچکچاہٹ پیدا ہوئی ہے اس کا اظہار ان انٹرویوز میں بھی ہوا جو وائس آف امریکہ نے ملک بھر سے واشنگٹن کی سیر کے لیے آنے والے لوگوں سے کیے۔

ریاست ٹینی سی کے سٹیفن فیلڈز نے کہا کہ ‘‘میرا خیال ہے کہ ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیئے کہ ہم دوسرے ملکوں کے معاملات میں کس طرح کارروائی کریں۔’’

ریاست ورجینیا کے میرریل گیلبرڈ نے کہا کہ ‘‘میرا خیال ہے کہ لوگ جنگ سے تھک گئے ہیں۔ امریکیوں نے جنگ کرنا کبھی بھی پسند نہیں کیا، اگرچہ حالیہ دنوں میں ہم بہت زیادہ لڑائیوں میں الجھ گئے ہیں۔ امید کرنی چاہیئے کہ صدر اوباما ہمیں مستقبل کی جنگوں سے دور رکھیں گے۔’’

ریاست میساچوسٹس کے جیسن کیپٹ نے کہا کہ ‘‘ہاں میرا یقیناً یہی خیال ہے کہ ہمیں خود کو بڑی حد تک الگ کرلینا چاہیئے، گذشتہ دس برسوں میں ہم جو کچھ کرتے رہے ہیں خاص طور سے آج کل ہماری معیشت کی جو حالت ہے اس کی روشنی میں ہمیں اب پیچھے ہٹ جانا چاہیئے۔’’

بیشتر تجزیہ کار اس حد تک تو نہیں جائیں گے کہ اس قسم کے خیالات کو الگ تھلگ ہو جانے کی نئی شکل کا نام دے دیں۔ لیکن بیرونی ملکوں میں جا کر ان کے معاملا ت میں دخل دینے سے اس ہچکچاہٹ کا اظہار رائے عامہ کے جائزوں میں ہو رہا ہے۔

کیرال ڈہرٹی واشنگٹن میں ‘پیو ریسرچ سینٹر فار دی پیپل اینڈ پریس’ سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘دو بڑی جنگوں کے بعد تھکن کا احساس پیدا ہو چلا ہے اور کچھ یہ تشویش بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اور چین میں کیا ہو رہا ہے۔ لوگ لا تعلق نہیں ہو رہے ہیں، لیکن عام لوگوں میں یقیناً ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں الجھا جائے۔’’

ڈین لیمین کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ لوگ بیرونی ملکوں میں فوجی طور پر ملوث ہونے سے جی چراتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑے اچھے مقصد کے لیے امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔

‘‘میرا خیال ہے کہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ امریکہ کے لوگ شاید یہ محسوس کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کے معاملے میں، ہمیں کچھ زیادہ الگ تھلگ ہو جانا چاہیئے۔ یہ بات خاصی افسوسناک ہے اگر آ پ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج کل دنیا میں بہت سے ایسے تنازعات چل رہے ہیں جن میں ہماری مدد ضروری ہے۔’’

لیمین کہتے ہیں کہ رائے عامہ کے جائزے کچھ بھی کہیں اپنے مقصد سے ان کی وابستگی برقرار ہے۔

‘‘ہم نے اس معاملے میں اب تک پالیسی کے جو افسوسناک اور بعض اوقات نقصان دہ اقدامات دیکھے ہیں ان کے باوجود ہم آخر وقت تک اس مقصد کے لیے کام کرتے رہیں گے، اور ہم اسے اختتام تک پہنچائیں گے۔’’

واشنگٹن پوسٹ اے بی سی نیوز کے حالیہ رائے عامہ کے جائزے کے مطابق سروے میں شامل 17 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو شام کے تنازع میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے جب کہ 73 فیصد لوگوں نے اس خیال کی مخالفت کی۔
XS
SM
MD
LG