رسائی کے لنکس

ایک برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوانوں نے خطوط نویسی کا فن کھو دیا ہے اور حالیہ دنوں میں کمرہ جماعت سے باہر قلم سے خط لکھنے والوں کی تعداد صرف چھ میں سے ایک ہے۔

ایک زمانہ تھا جب خط و کتابت اور پیغام رسانی کے لیے ہاتھ سے خط لکھے جاتے تھے اور خطوط نویسی ایک باقاعدہ فن کی حیثیت رکھتی تھی لیکن، آج انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ نے دنیا کی مسافت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، اب خط و کتابت کے لیے ای میل زیادہ مقبول ذریعہ بن گیا ہے اور رفتہ رفتہ لوگ ہاتھ سے خط لکھنا بھولتے جا رہے ہیں اور خطوط نویسی کی روایت بھی بعض پرانی قدروں کی طرح ماضی کا قصہ بننےجا رہی ہے۔

ایک برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوانوں نے خطوط نویسی کا فن کھو دیا ہے اور حالیہ دنوں میں کمرہ جماعت سے باہر قلم سے خط لکھنے والوں کی تعداد صرف چھ میں سے ایک ہے۔

نیشنل لٹریسی ٹرسٹ کے تازہ مطالعے سے پتا چلا کہ نوجوانوں میں خطوط نویسی کا رجحان بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، جیسا کہ نتائج سے انکشاف ہوا کہ آٹھ سے 11 سال کے ہر تین میں سے ایک بچے میں خطوط نویسی کا امکان ہے، اس کے مقابلے میں 11 سے 14 سال کے ہر چار میں سے ایک بچے میں کلاس سے باہر خط و کتابت کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔

اس نتیجے کے برعکس 14 سے 16 سال کے نوجوانوں میں خطوط نویسی کا امکان صرف 16.5 فیصد ہے۔

ٹرسٹ کے ڈائریکٹر جوناتھن ڈگلس نے کہا کہ نوجوانوں میں کلاس سے باہر خطوط نویسی کے رجحان میں کمی کی ایک جزوی وجہ میٹرک جیسے اہم سال کی پڑھائی کا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

بقول ڈاکٹر ڈگلس اس عمر کے نوجوان جذبات سے بھرے ہوتے ہیں اور ان کا ایک جگہ بیٹھ کر خط لکھنا مشکل ہے البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ کم عمر بچے اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں اب بھی خط لکھنے کے لیے کچھ وقت نکال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ای میل کے مقابلے میں بیٹھ کر ہاتھوں سے خط لکھنا نامہ نگار اور وصول کنندہ دونوں کو ذاتی طور پر احساسات سے پر کرتا ہے۔

مطالعے سے ظاہر ہوا کہ لڑکیوں میں خطوط نویسی کا امکان زیادہ تھا، جن میں ہر تین میں سےایک لڑکی مہینے میں ایک بار ہاتھ سے خط وکتابت کرتی ہے، جبکہ ان کے مقابلے میں 25 فیصد سے کم لڑکوں میں تحریری خط کا امکان نظر آیا۔

نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مہینے میں ایک بار تحریری خط وکتابت کرنے والوں میں سے دگنے سے زیادہ بچے اپنی عمر سے زیادہ اچھے مصنف ہوتے ہیں، ان بچوں کے مقابلے میں جو تحریری خط و کتابت نہیں کرتے ہیں۔

نتائج سے وضاحت ہوئی کہ خطوط نویسی بچوں اور نوجوانوں میں تحریر کے بارے میں مثبت سوچ پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ جو نوجوان تحریری خط لکھتے ہیں ان میں سے دگنے سے زیادہ بچے قلم سے خط لکھنے کو فیشن ایبل سمجھتے ہیں۔

علاوہ ازیں خطوط نویسی کرنے والے نوجوانوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر وہ ایک اچھے مصنف بن جائیں گے، تو بڑے ہو کر انھیں خط نا لکھنے والے بچوں کے مقابلے میں ایک بہتر ملازمت مل سکتی ہے۔

نتائج کے آخر میں بتایا گیا کہ جو نوجوان ہر روز خط لکھتے ہیں ان کی تحریری صلاحیت انھیں کلاس میں بہتر اور زندگی میں ممتاز بناتی ہے۔

XS
SM
MD
LG